ایران نے امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کے تحت اہم پیشرفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹرانزٹ فیس 60 روز کے لیے معطل کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے
ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور اہم علاقائی معاملات پر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
حکام کے مطابق 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کے ٹرانزٹ اخراجات ایرانی حکومت برداشت کرے گی تاہم ہر جہاز کے لیے آبنائے سے گزرنے سے قبل پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے میں علاقائی سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی سمیت مختلف امور پر 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک طے کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹرانزٹ فیس کی معطلی کے باوجود تمام جہازوں کو حفاظتی وجوہات کے پیش نظر مقررہ بحری راستوں اور شیڈول کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے اس لیے اس راہداری میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عالمی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی دور کو اس وقت اچانک منسوخ کر دیا گیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیل کے ناقدین پر سخت تنقید سامنے آئی۔













