مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے آم پیدا کرنے والے علاقوں میں شدید گرمی کے دوران مزدور تیزی سے درختوں سے آم اتار رہے ہیں، تاہم اس سال آم کی بڑی مقدار معمول کے مطابق منافع بخش ایکسپورٹ مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکے گی۔

زرعی معیشت پر انحصار کرنے والا پاکستان مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات کی زد میں ہے، جس میں حکومت نے ثالثی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔

اسلام آباد معاہدہ آم سیزن کے لیے دیر سے آیا

اسلام آباد کی جانب سے رواں ہفتے متحارب فریقین کے درمیان ابتدائی معاہدے کا اعلان کیا گیا، تاہم یہ معاہدہ سندھ میں جون سے شروع ہونے والے آم کے سیزن کے لیے بہت دیر سے سامنے آیا۔

آم کے تاجروں نے میڈیا کو بتایا کہ رواں سال ایکسپورٹ سیلز میں کم از کم 30 فیصد کمی کا خدشہ ہے، جس کی وجہ خلیجی ممالک سمیت اہم مارکیٹس میں طلب میں کمی اور شپنگ اخراجات میں اضافہ ہے۔

مہنگائی نے مقامی فروخت بھی متاثر کردی

مالی مشکلات میں اضافہ اس وقت ہوا جب علاقائی بحران کے باعث مہنگائی میں اضافے سے متاثرہ مقامی گھرانوں نے آم خریدنے سے گریز کیا، جس سے اندرونِ ملک فروخت بھی دباؤ کا شکار ہوگئی۔

ٹنڈو الہ یار کے آم پیدا کرنے والے علاقے میں سندھڑی آم کے باغات ہیں۔ سندھڑی آم اپنے گہرے ذائقے اور رسیلے گودے کے باعث مشہور ہے۔

کسانوں کو خدشہ ہے کہ ان کا کاروبار باغات کے لیز کے پیشگی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی مطلوبہ آمدن حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کے مطابق بعض ٹھیکیداروں نے اپنے معاہدے مکمل طور پر چھوڑ دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنے نقصانات ہوئے ہیں کہ ٹھیکیدار اپنی ایڈوانس رقم تک چھوڑ گئے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ پاکستان آم کی دو درجن سے زیادہ اقسام پیدا کرتا ہے، جن سے عام طور پر سالانہ قریباً 11 کروڑ ڈالر کی بین الاقوامی فروخت ہوتی ہے، اور پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا آم برآمد کرنے والا ملک ہے۔

مشرقِ وسطیٰ جنگ سے پیدا ہونے والے چیلنجز نے پاکستانی معیشت کی جغرافیائی سیاسی کمزوری کو نمایاں کردیا ہے، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متاثرہ زرعی شعبے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن وحید احمد کے مطابق پاکستان کی قریباً 80 فیصد آم ایکسپورٹ خلیجی خطے، ایران اور افغانستان کو جاتی ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں یہ تمام علاقے تنازعات سے متاثر رہے ہیں۔

وحید احمد کے مطابق گزشتہ سیزن کے مقابلے میں رواں سال آم کی مجموعی ایکسپورٹ قریباً 30 ہزار ٹن کم ہو کر 80 ہزار ٹن تک رہنے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرحد بند ہے، ایران میں جنگ ہے اور پورا مشرقِ وسطیٰ جنگی صورتحال سے متاثر ہے۔

جنگ بندی کی ابتدائی کوشش کے باوجود چیلنجز برقرار

وحید احمد نے امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی روکنے کے ابتدائی معاہدے کا خیرمقدم کیا، تاہم ان کے مطابق یہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور رواں سال کے قریباً 3 ماہ پر مشتمل آم سیزن کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔

شپنگ اخراجات میں بڑا اضافہ

آبنائے ہرمز کے اردگرد بحری تیل تجارتی راستے پر رکاوٹوں نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں شپنگ اخراجات بھی بڑھ گئے۔

وحید احمد کے مطابق گزشتہ سال 25 ٹن آم کے ایک کنٹینر کی شپنگ لاگت قریباً 1400 ڈالر تھی، جبکہ اس سال یہی فریٹ بڑھ کر 6000 سے 7000 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

مقامی مارکیٹوں میں آم کی زیادہ آمد سے ایکسپورٹ نقصان پورا ہونے کی امید بھی پوری نہ ہو سکی، کیونکہ مہنگائی کے باعث عوام کی قوتِ خرید متاثر ہے، اور لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہم روٹی خریدیں یا آم۔

سرکاری سروے کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد 3 ماہ میں پاکستان کی افراطِ زر کی شرح 10 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی تا فروری کے عرصے میں 5.5 فیصد تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟