حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے

پیر 10 اگست 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔ اب تک 24 نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ ن کی برتری واضح ہے۔ آج کے انتخاب میں چاروں نشستوں کے حوالے سے دلچسپ مقابلے کی توقع ہے۔ 10 نشستیں اب تک پیپلز پارٹی کے نام ہوئی ہیں۔ دھاندلی کے بے شمار الزامات کے باوجود ابھی تک دھاندلی کے کوئی خاص ثبوت سامنے نہیں آسکے۔ مسلم لیگ ن سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، 7 نشستوں پر ابھی انتخاب باقی ہے۔ دو تہائی اکثریت کے لیے جادوئی نمبر 36 کا ہے۔ مخصوص نشستوں کے ووٹ ملا کر مسلم لیگ پوری کوشش میں ہے کہ کسی طرح یہ نمبر ان کی دسترس میں آجائے، مگر ہنوز دلی دور است۔

آخری 7 حلقوں کے انتخابات بہت اہم ہیں۔ انہی حلقوں کی وجہ سے انتخابات مرحلہ وار کروائے گئے۔ یہاں پر انتشار کی کیفیت اب بھی قائم ہے۔ نہ ہوتی تو آج یہاں الیکشن ہورہے ہوتے۔ ان حلقوں میں انتخابات کی تاریخ اب ممکنہ طور پر 20 یا 21 اگست ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے حکومت سازی کا عمل پہلے شروع ہوجائے اور ان حلقوں میں انتخابات حکومت بننے کے بعد کروائے جائیں۔ جانچنے کی ضرورت ہے کہ مرحلہ وار انتخابات کتنے مؤثر ثابت ہوئے اور کیا ان سے وہ اجنبی آوازیں تھم گئی ہیں جن سے کشمیر کی وادی نامانوس رہی ہے؟

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہر ممکن کوشش کی کہ انتخابات وقت پر نہ ہوں۔ کبھی حالات کا رونا رویا گیا، کبھی بدامنی کی دہائی دی گئی، کبھی دھونس کا مظاہرہ کیا گیا اور کبھی دھرنا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے حالیہ وزیراعظم فیصل راٹھور کی جو حکومت چند ماہ کے لیے بنائی تھی، وہ بھی اس حکومت کی مدت میں اضافہ چاہتے تھے۔ بہت سی جگہوں پر یہ بھی ہوا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پیپلز پارٹی نے مل کر انتخابی پروگرام میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ خوف صرف انتخابات کا نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا بھی ہے۔

2018 میں تجربات کا دور دورہ تھا۔ عمران خان کی محبت میں مرے جانے والے جج بھی موجود تھے اور جرنیل بھی۔ فیض حمید چار سو مگن اور مصروف تھے۔ جنرل باجوہ لاڈلے کو گود میں سیر کراتے پھر رہے تھے۔ پھر 2021 میں آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی وہی تجربہ دہرایا گیا جو پاکستان میں کیا گیا۔ دونوں تجربات کا نقصان ہوا۔ نہ اسلام آباد میں عمران کی حکومت نے ملک کو کچھ دیا، نہ کشمیر میں قیوم نیازی جیسا بے پیندے کا برتن جڑیں پکڑ سکا۔

اس زمانے میں جو تجربہ کشمیر میں کیا گیا، اس کی درستگی کے لیے کئی اور غلطیاں کی گئیں۔ کبھی تنویر الیاس سامنے لائے گئے، جو ہوش میں کم ہی رہتے تھے۔ ان کے زمانے کے واقعات اتنے شرمناک ہیں کہ ان یادوں کو دفن ہی کردیں تو بہتر ہے۔ ان سے جان چھڑائی گئی تو چوہدری انوارالحق صاحب کی باری آگئی۔ انوارالحق پڑھے لکھے آدمی ہیں، لیکن سیاسی آدمی نہیں۔ میدان سیاست میں بنا کسی سیاسی بیک گراؤنڈ کے پودے جڑ نہیں پکڑتے۔ ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ کوشش کی گئی۔ ان پر دست شفقت دیر تک قائم رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دو بڑی پارٹیوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حکومت میں شامل کردیا گیا، اور سب کو نواز دیا گیا۔ سب ہی وزیر تھے، سب ہی مشیر تھے۔ اس زمانے میں اپوزیشن کا کردار مکمل طور پر ختم کردیا گیا تاکہ انوارالحق صاحب سکون سے حکومت کرسکیں۔ مگر سیاست کے ایوان حزبِ اختلاف کے بغیر نہیں چلتے۔ ہر حکومت کا محاسبہ ایوان میں ضروری ہوتا ہے۔ جمہوریت اسی فرض اور ذمہ داری کے دوہرے معیار کا نام ہے۔

جس طرح ٹاپ پوزیشن کبھی خالی نہیں رہتی، اسی طرح حزبِ اختلاف کی جگہ بھی خالی نہیں رہتی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جلد ہی اپوزیشن کی جگہ لے لی۔ انوارالحق صاحب جو سکون سے حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے، وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ہر مطالبہ مانتے چلے گئے۔ اس سے ان کو اپنے اقتدار کے تو چند دن اور مل گئے، مگر کشمیر میں فساد کی ایک ایسی جڑ تخلیق کردی گئی جس کا اب کوئی حل نہیں مل رہا۔

اپنے ہاتھوں کی لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔ 2021 میں الیکٹیبلز کو اکٹھا کرکے سرمائے کے زور پر پی ٹی آئی کی حکومت قائم کرلی گئی، اور قیوم نیازی کو ’بے اختیار وزیراعظم‘ بھِی  بنا دیا گیا۔  ن لیگ کا رستہ بھی روک دیا گیا ۔ ساری خواہشیں پوری کرلیں گئیں مگر حالات نہ سنبھلے

فیصلہ سازوں نے اپنا مشن تو پورا کرلیا، مگر اس کا نقصان کشمیر کو، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو کتنا ہورہا ہے، اس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔ ایک غلطی کو درست کرنے کے لیے ماضی میں کئی غلطیاں کی گئیں۔ کسی کا نتیجہ بھی حسبِ منشا نہیں نکلا۔ نقصان میں اضافہ ہوتا گیا۔ سمندر پار پاکستانی ناراض ہوتے رہے۔ یورپ اور برطانیہ میں مظاہروں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ نامانوس اور اجنبی نعرے لگنا شروع ہوگئے۔ بات بگڑنے لگی۔ تلخی بڑھنے لگی۔

اب  فیصلہ کیا گیا ہے کہ معاملات کو سیاسی قیادت کے حوالے کیا جائے۔ عوام کے نمائندوں کو فیصلہ کن تسلیم کر ہی لیا جائے۔ اب مسلم لیگ ن کو مہم بھی چلانے دی گئی اور جو غلطی 2018 میں پاکستان میں کی گئی، اس کو دہرانے سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔

حالات یہ ہیں کہ شورش تو ختم نہیں ہوئی، لیکن سیاسی عمل آگے بڑھ چکا ہے۔ لوگ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ سیاسی جلسے ہورہے ہیں، جلوس نکل رہے ہیں۔ لوگوں کی توجہ اپنی اپنی جماعتوں کی محبت کی طرف ہے۔ نفرت انگیز کارروائیوں سے اب وہ صرفِ نظر کرنے لگے ہیں۔ بلاول بھٹو اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ اب سب نشستیں بھر چکی ہیں۔ اس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔

مدعا یہ ہے کہ جب کبھی سیاسی جماعتوں کو ان کے بنیادی استحقاق سے روک دیا جائے گا، اس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ وقتی طور پر حالات کنٹرول ہوتے ہیں، مگر ان وقتی پالیسیوں کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ بات اہلِ کشمیر کو بھی سمجھنی چاہیے۔ یہ سبق سیاسی جماعتوں کو بھی سیکھنا چاہیے۔ کشمیر کی صورتحال کا اشارہ ’چھوٹے صوبوں کے متوالوں کو‘ بھی سمجھنا چاہیے۔

اس ملک کو تجربات کی نہیں، تسلسل کی ضرورت ہے۔ جو نعرے ہزاروں کشمیریوں نے مسلم لیگ ن کے حویلی کے جلسے میں پاکستان کے حق میں لگائے، ہمیں ان آوازوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ارضِ مقدس سے محبت کی ضرورت ہے۔ سبز پرچم کی سربلندی کی ضرورت ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہائیکورٹس میں ججز تعیناتی کی سمری زیرِ التوا رکھنے کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق سے رپورٹ طلب کرلی

پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم کے 20 ہزار سے زائد مقدمات، اعداد و شمار تشویشناک ہیں، حسن مرتضیٰ

’میری بیوی مجھے بیٹے سے ملنے نہیں دے رہی‘، یوٹیوبر جنید اکرم نے معاملہ عدالت لے جانے کا اعلان کردیا

کراچی میں ’سی آرٹس‘ کے نئے رہائشی مرکز کا افتتاح، 300 بچوں کی گنجائش

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اے آئی جاب مارکیٹ کے لیے خطرہ، نئے مواقع کیسے پیدا کیے جائیں؟

ویڈیو

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روز بدلنے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار