پاکستان میں یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے نئے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ‘ایف ای ڈی’ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیصلے کے تحت 2 کروڑ پاکستانی روپے ’75 ہزار ڈالر‘ سے زیادہ مالیت کی پرتعیش ’لگژری‘ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگے گا جبکہ اس سے کم قیمت والی گاڑیوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے والے محکمہ ایکسائز کے افسران کو بطور انعام الیکٹرک گاڑیاں دینے کا فیصلہ؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اہم معلومات قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں سامنے آئیں جہاں ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی دیگر روایتی گاڑیوں کی نسبت ٹیکس کم رکھا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکسیشن اور انفراسٹرکچر کی کمی پر کمیٹی اراکین نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
ممبر کمیٹی حنا ربانی کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیاں روایتی ’آئی سی ای‘ گاڑیوں کی نسبت پہلے ہی مہنگی ہیں، ان پر 30 فیصد ڈیوٹی لگانا ’غلط پالیسی‘ ہے کیونکہ اس شعبے میں ہر 6 ماہ بعد نئی جدت آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں:2030 تک پاکستان میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں، صدر زرداری کا بڑا اعلان














