برطانیہ کے وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیئر اسٹارمر نے پارٹی کی حمایت کھونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اسٹارمر نے 22 جون کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں جذباتی خطاب کے دوران اپنے استعفے کا اعلان کیا، جبکہ اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا۔
اسٹارمر نے استعفیٰ کیوں دیا؟
اسٹارمر نے اپنی ہی جماعت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث استعفیٰ دیا۔ لیبر پارٹی کے کئی ارکان کا خیال تھا کہ 63 سالہ اسٹارمر آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے بہترین انتخاب نہیں رہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ میری جماعت یہ سوال کر رہی ہے کہ آیا میں اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے موزوں ہوں یا نہیں، اور میں اپنی پارلیمانی جماعت کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔
اینڈی برنہم کون ہیں؟
اینڈی برنہم ایک برطانوی سیاست دان ہیں، جو شمالی انگلینڈ میں اپنی مقبولیت کی وجہ سے کنگ آف دی نارتھ کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔
1970 میں پیدا ہونے والے 56 سالہ برنہم نے 15 سال کی عمر میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی میں تعلیم حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان
انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ٹیسہ جوول کے ساتھ کام کرتے ہوئے کیا، بعد ازاں 1998 میں ثقافتی سیکریٹری کرس اسمتھ کے خصوصی مشیر بنے اور 2001 میں گریٹر مانچسٹر کے حلقے لی سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کی حکومت میں انہوں نے جونیئر وزیر کے طور پر کام شروع کیا اور بعد میں گورڈن براؤن کی کابینہ میں چیف سیکریٹری خزانہ، وزیر ثقافت اور وزیر صحت جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔
بریگزٹ ریفرنڈم میں یورپی یونین میں رہنے کے حامی برنہم نے 2017 میں گریٹر مانچسٹر کے پہلے میئر کا انتخاب جیتا، جہاں انہیں 60 فیصد سے زائد ووٹ ملے۔ 2021 میں وہ مزید بڑے فرق سے دوبارہ میئر منتخب ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کی خبریں، حکومت نے تردید کر دی
کووڈ-19 وبا کے دوران انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم بورس جانسن کی لندن مرکز پالیسیوں پر سخت تنقید کی، جس کے بعد انہیں کنگ آف دی نارتھ کا لقب ملا۔
حالیہ عرصے میں وہ کیئر اسٹارمر اور مرکزی حکومت کی بعض پالیسیوں کے بھی ناقد رہے ہیں۔ مئی 2026 میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں لیبر پارٹی کی انتخابی شکست کے بعد وہ میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہو کر دوبارہ پارلیمنٹ پہنچے۔
برنہم نے اپنی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو استحکام، سنجیدگی اور عوامی مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے، اور سیاسی تبدیلی عوام کی زندگیوں میں بہتری کے مقصد سے ہونی چاہیے۔














