برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے مستقبل پر سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹارمر جلد مستعفی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ وزیراعظم بدستور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
برطانوی میڈیا میں اسٹارمر کی قیادت سے متعلق قیاس آرائیاں اس وقت بڑھیں جب لیبر پارٹی کے اندر ان کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں اور ایک ممکنہ جانشین کے طور پر اینڈی برنہم کا نام سامنے آنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں:نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل اسٹارمر حکومت کو بڑا دھچکا، برطانوی وزیرِ دفاع مستعفی
برطانوی اخبار آبزرور نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کو اپنے مستقبل کے بارے میں بیان دے سکتے ہیں اور عہدہ چھوڑنے کے لیے ٹائم لائن بھی پیش کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسٹارمر نے اپنی رہائش گاہ چیکرز میں اہلیہ اور قریبی حلقوں سے مشاورت کی ہے۔
تاہم حکومتی ذرائع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اسٹارمر حکومت چلانے اور اپنے فرائض پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے ماضی میں دیے گئے اسٹارمر کے ان بیانات کا حوالہ دیا جن میں انہوں نے قیادت کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسٹارمر کی مشکلات گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑھتی رہی ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑی کامیابی دلانے والے اسٹارمر کی مقبولیت بعد میں مختلف تنازعات اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث متاثر ہوئی۔
رائٹرز کے مطابق لیبر پارٹی کے 100 سے زائد منتخب ارکان پارلیمنٹ، جو پارٹی کے تقریباً ایک چوتھائی ارکان بنتے ہیں، کھلے عام اسٹارمر سے استعفے یا رخصتی کے لیے ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
سیاسی بحران اس وقت مزید بڑھ گیا جب لیبر رہنما کے ممکنہ حریف اینڈی برنَم نے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ان کے لیے پارٹی قیادت کا باضابطہ چیلنج پیش کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا پارٹی کے اندر بڑھتی مخالفت کے باوجود مستعفی ہونے سے انکار
برنہم کو لیبر پارٹی میں اسٹارمر کے ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر قیادت کے لیے چیلنج کا اعلان نہیں کیا، تاہم اپنی کامیابی کے بعد ملک کے لیے ایک ’نئے راستے‘ کی بات کی۔
دوسری جانب سابق وزیر صحت ویز سٹریٹنگ نے بھی اسٹارمر کو چیلنج کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اگر اسٹارمر مستعفی ہوتے ہیں یا انہیں عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو برطانیہ کو ایک دہائی سے زائد عرصے میں ساتواں وزیر اعظم مل سکتا ہے، جو ملک کی جدید سیاسی تاریخ میں حکومتوں کے مسلسل عدم استحکام کی عکاسی کرے گا۔














