ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران امریکا مذاکرات نے فوری جنگ کے خطرات کو وقتی طور پر کم ضرور کردیا ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ اگلے 60 روز میں یہ طے ہونا ہے کہ آیا فریقین ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کی طرف لوٹ جائے گا۔

خارجہ امور کے ماہرین کی رائے ہے کہ ایران امریکا مذاکرات مقررہ 60 روز کے اندر مکمل ہونے کا امکان محدود ہے اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مذاکرات مسلسل جاری رہیں۔

مزید پڑھیں: سوئٹزر لینڈ مذاکرات کے مثبت نتائج، امریکا نے ایران کو تیل کی پیداوار اور فروخت کی اجازت دیدی

پاکستان کے سابق سفارتکار ضمیر اکرم نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات کے لیے سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ ’یہ برقرار رہیں‘ اور اُس سے بڑا چیلنج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متلوّن مزاجی ہے۔

مذاکرات کے لیے ایک اور بڑا چیلنج اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان میں جاری جارحیت ہے جو اس سے قبل بھی مذاکرات میں تعطل کا باعث بن چکی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان 2015 میں جوہری معاہدے جے سی پی او اے میں حصہ لینے والے ایک مذاکراتِ کار ایلن آئر نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ ایران کیا کرے گا یا کیا نہیں کرے گا۔ یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں جتنا بڑا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے لیے کس سطح کی نگرانی قبول کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ اِس جوہری ڈیل اور 2015 کی جوہری ڈیل کا موازنہ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب یہ ہو جائے۔

آئندہ 60 دنوں میں کن امور پر بات ہوگی؟

ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل

یورینیم افزودگی کی حد

400 کلو گرام افزودہ یورینیم کا معاملہ

اقتصادی پابندیوں میں نرمی

لبنان اور خطے میں جنگ بندی

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ

نگرانی اور تصدیق کا نظام

امید اور ناامیدی کے درمیان مُعلّق مذاکرات

اتوار کے روز 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات میں کچھ ایسے اتار چڑھاؤ آئے جب بعض دفعہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ مذاکرات ناکام ہوکر ختم ہو گئے۔

اس سے قبل 19 جون کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کے بعد جب دستخط کیے جانے کی تقریب منسوخ ہوئی تو اس وقت بھی بہت ساری قیاس آرائیوں نے جنم لیا اور گزشتہ روز ایک موقع پر جب ایرانی وفد نے مذاکرات چھوڑ کر جانے کا اعلان کیا تو بہت سے حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد پاکستانی اور قطری ثالثوں کی کوششوں سے ایرانی وفد نے دوبارہ مذاکرات کا حصہ بننے کی حامی بھری۔

اِن مذاکرات کے بعد مختلف امور پر تکنیکی مذاکرات کے لیے 60 دن کا روڈ میپ دیا گیا جس میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی مذاکرات کے ذریعے مختلف امور کو طے کرے گی۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مذاکرات کے لیے 60 روز کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ بُنیادی طور پر ایران کا جوہری پروگرام، ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں، آبنائے ہرمز اور تمام محاذوں بشمول لبنان پر جنگ بندی سے متعلق گفتگو کی جائے گی۔

گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹ کے ذریعے بتایا کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یاداشت‘ کے تحت پہلی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئے اور حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی، جس میں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے لائحہ عمل پر اتفاق، سیاسی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اور مزید فنی مذاکرات کے آغاز کا فیصلہ شامل ہے۔

وزیراعظم کے اس ٹویٹ نے اس سارے تاثر کی نفی کردی ہے جو مذاکرات کی ناکامی سے متعلق تھا۔

سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

سفارتکار ضمیر اکرم نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ابھی تو مذاکرات ہو رہے ہیں اور اِن کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ برقرار رہیں اور تعطل کا شکار نہ ہوں۔

انہوں نے کہاکہ بہت سے اُمور پر مذاکرات ہونے ہیں جن میں سب سے بڑا چیلنج جوہری مواد کے حوالے سے مذاکرات ہیں۔ آیا ایران کو جوہری مواد کی افزودگی کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ ایران تو چاہتا ہے کہ اس کے لیے جوہری توانائی اور طبی شعبہ جات کے لیے جوہری مواد کی افزودگی جاری رکھی جائے اور ایران ایسا نہیں چاہے گا کہ اسے اس سے مکمل طور پر روک دیا جائے۔

’میرا خیال ہے کہ امریکا اِس پر مان بھی جائے گا۔ دوسرا بڑا مسئلہ اُس 400 کلو گرام یورینیم کا ہے جو ایران کے پاس ہے اور امریکا یہ چاہتا ہے کہ اسے کسی دوسرے ملک کے حوالے کر دیا جائے جبکہ ایران کا اِصرار یہ ہے کہ وہ اِسے خود تلف کرے گا، لیکن امریکا شاید اِس بات پر نہ مانے۔‘

ضمیر اکرم نے کہاکہ اس کے بعد ان مذاکرات کے لیے دوسرا بڑا چیلنج اقتصادی پابندیوں کا ریلیف ہے۔ اسرائیل کے لبنان پر جاری حملے اِن مذاکرات کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہیں، لیکن ایسا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا کہ امریکا اسرائیل کی حمایت سے مکمل دستبردار ہو جائے کیونکہ اسرائیل امریکا کے ہر شعبے، صحافت، سیاست، معیشت کے اندر گرفت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ تمام معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ایک بڑا چیلنج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا روّیہ بھی ہے جو پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتا رہتا ہے۔

سب سے اہم بات اِن مذاکرات کا جاری رہنا ہے، ایلن آئر

ایران اور امریکی کے درمیان 2015 کی جوہری ڈیل جے سی پی او اے میں ایک شریک مذاکرات کار ایلن آئر نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ سب سے اہم بات اِن مذاکرات کا جاری رہنا ہے اور 60 دنوں میں کوئی بامقصد معاہدہ ہونے کے اِمکانات کم ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران ڈیل: ’تاریخ رقم ہوگئی، پاکستان کی شاندار سفارتکاری نے دنیا کو حیران کردیا‘

مجھے لگتا ہے ٹرمپ انتظامیہ اس جنگ سے نکلنے کے لیے سنجیدہ ہے، وکٹر جے وِلی

سوئٹزرلینڈ میں قائم مشرقِ وسطیٰ انسٹیٹوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر وکٹر جے ولی نے بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ مجھے لگتا ہے ٹرمپ انتظامیہ اس جنگ سے نکلنے کے لیے سنجیدہ ہے اور ایرانی بھی جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن اصل مدعا لبنان ہے، اصل مدعا اسرائیل ہے اور ایران امریکا کی جنگ سے نکلنے کی خواہش کا امتحان لے رہا ہے کہ آیا وہ اسرائیل پر جنگ بندی کا دباؤ ڈال سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ریڈزون میں قائم بیشتر وفاقی اداروں کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت، اہم وزارتیں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی

پیٹرولیم مصنوعات سستی، مگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی وعدوں تک محدود

خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟

خیبر پختونخوا کا خسارے کا بجٹ، صوبہ وفاق کو گرانٹس دینے کے لیے کیوں تیار نہیں؟

کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اب تک کتنے کھلے خط لکھے ہیں؟

ویڈیو

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

عالمی رہنماؤں کی پاکستان سے غیر معمولی محبت، پشاور کےشہری کیا کہتے ہیں؟

مل کر گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے کام کریں گے، نو منتخب اراکین اسمبلی

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا