بلوچ یکجہتی کمیٹی کا پروپیگنڈا بے نقاب، عدالتی فیصلوں کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو ریاست مخالف بیانیے کی طرف دھکیلنے کی کوشش

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں اور عدالتی نظام کے خلاف مہم تیز کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ اور دیگر رہنماؤں کو سنائی جانے والی سزاؤں کو بلوچ سیاسی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم تنظیم کا یہ مؤقف حقائق کے صرف ایک رخ کو اجاگر کرتا ہے جبکہ بلوچستان میں دہشتگردی، تخریب کاری اور عوامی جان و مال کو درپیش خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:نام نہاد لاپتا افراد بیانیے کی آڑ فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

 بلوچ یکجہتی کمیٹی کے یکطرفہ بیانیے کا حقیقت پسندانہ جائزہ

بی وائی سی نے اپنی حالیہ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ تنظیم پرامن سیاسی جدوجہد کر رہی ہے اور ریاستی اقدامات کا نشانہ بن رہی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ تنظیم مسلسل ایسے بیانیے کو فروغ دے رہی ہے جو ریاستی اداروں، عدلیہ اور ترقیاتی منصوبوں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ کمیٹی نے بعض رہنماؤں کی سزا کو بنیاد بنا کر ریاست پاکستان پر الزامات عائد کیے ہیں، جس میں بلوچستان کی صورتحال کا صرف ایک رخ پیش کیا گیا ہے جبکہ زمینی حقائق کہیں زیادہ پیچیدہ اور ہمہ جہت ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے:

1۔ عدالتی فیصلوں کا احترام اور آئینی راستہ

پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں عدالتی نظام قانون، شواہد اور آئین کے مطابق فیصلے صادر کرتا ہے۔ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن محض اختلاف کی بنیاد پر پورے عدالتی عمل کو غیر منصفانہ قرار دینا درست طرزِ عمل نہیں۔

اگر کسی فریق کو فیصلے پر اعتراض ہو تو پاکستان کا آئین اپیل اور قانونی چارہ جوئی کے مکمل مواقع فراہم کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کا حل عدالتوں اور آئینی اداروں کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

2۔ بلوچستان کے مسائل صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھے جا سکتے

بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی، بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، تخریب کاری اور مسلح شورش کا شکار رہا ہے۔ اس دوران ہزاروں عام شہری، مزدور، اساتذہ، انجینئرز، ڈاکٹرز، ٹرانسپورٹرز، سرکاری ملازمین اور سیکورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ صوبے کی ترقی اور امن کو سب سے زیادہ نقصان دہشتگردی اور مسلح تشدد نے پہنچایا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل تشدد نہیں بلکہ امن، استحکام اور سیاسی عمل میں مضمر ہے۔

مزید پڑھیں:بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے گروہوں کی وکالت، ایمان مزاری کا مؤقف ریاست دشمن عناصر کے بیانیے سے ہم آہنگ

3۔ ہر قسم کے تشدد کی غیر مشروط مذمت ضروری ہے

جو عناصر واقعی بلوچستان کے عوام کی فلاح چاہتے ہیں، انہیں ہر قسم کے تشدد، قتل و غارت اور خوف کی سیاست کی بلاامتیاز مذمت کرنی چاہیے۔

کسی بھی سیاسی یا نظریاتی مقصد کے لیے بے گناہ شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سرکاری املاک کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ انسانی جان کا احترام ہر سیاسی مؤقف سے بالاتر ہے۔

4۔ سیاسی سرگرمیاں اور قانون کی حدود

پاکستان کا آئین سیاسی اظہارِ رائے، احتجاج اور سیاسی جدوجہد کا حق دیتا ہے، لیکن یہ حقوق قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر استعمال کیے جاتے ہیں۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھے، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے اور ایسے اقدامات کی روک تھام کرے جو بدامنی، تشدد یا انتشار کو فروغ دے سکتے ہوں۔ لہٰذا قانون کے نفاذ کو سیاسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی قرار دینا ہمیشہ درست تجزیہ نہیں ہوتا۔

5۔ بلوچستان کا مستقبل ترقی، تعلیم اور سرمایہ کاری سے وابستہ ہے

بلوچستان کی حقیقی ترقی تعلیم، روزگار، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور سیاسی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں کا مقصد بلوچستان کو علاقائی تجارت کا مرکز بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

ان منصوبوں میں بہتری اور مقامی آبادی کے لیے مزید فوائد کا مطالبہ ایک جائز سیاسی حق ہے، لیکن ترقیاتی منصوبوں کی مکمل مخالفت یا ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بلوچستان کے عوام کے طویل المدتی مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کی سافٹ فیس اور پراکسی نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہی ہے، سرکاری شواہد

6۔ بلوچستان کے عوام کو کیا درکار ہے؟

بلوچستان کے عوام کو معیاری تعلیم، جدید ہسپتال، بہتر سڑکیں، صنعتیں، ڈیجیٹل رابطے اور روزگار کے مواقع درکار ہیں۔

صوبے کے نوجوانوں کو ترقی اور کامیابی کے مواقع دینے کے لیے ضروری ہے کہ امن قائم ہو اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنایا جائے۔ مسلسل احتجاجی سیاست، تصادم اور بدامنی سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

7۔ سرکاری ملازمین کی آئینی اور قومی ذمہ داری

سرکاری ملازمین، اساتذہ، سول سرونٹس اور دیگر عوامی اداروں کے اہلکار ریاستی وسائل سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ تمام شہریوں کی بلاامتیاز خدمت کر سکیں۔

ان کی بنیادی ذمہ داری عوامی خدمات کی فراہمی، ادارہ جاتی استحکام اور قانون کی پاسداری ہے۔ ایسے اقدامات کی حمایت جو تعلیمی، صحت، ٹرانسپورٹ یا انتظامی نظام کو مفلوج کریں، براہِ راست عوامی مفاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

8۔ نوجوانوں اور طلبا کا اصل کردار

بلوچستان کے نوجوان اور طلبا صوبے کا مستقبل ہیں۔ انہیں تعلیم، تحقیق، ہنر مندی، مکالمے اور مثبت سیاسی شعور کی طرف راغب کیا جانا چاہیے۔

ترقی یافتہ معاشرے اپنی نوجوان نسل کو علم، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے مضبوط بناتے ہیں، نہ کہ انہیں مستقل تصادم اور عدم استحکام کے ماحول میں دھکیلتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

9۔ بلوچستان کے سامنے اصل انتخاب کیا ہے؟

آج بلوچستان کے سامنے اصل انتخاب خاموشی اور مزاحمت کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف راستوں کے درمیان ہے:

تشدد یا پرامن سیاست
انتشار یا ترقی
تنہائی یا مواقع
بدامنی یا استحکام

پاکستان کا جمہوری نظام انتخابات، سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے ذریعے اپنی رائے پیش کرنے کے متعدد آئینی راستے فراہم کرتا ہے۔ پائیدار تبدیلی انہی جمہوری ذرائع سے ممکن ہے۔

10۔ کوئی بھی فرد یا تنظیم قانون سے بالاتر نہیں

ہر شہری کو اظہارِ رائے اور اصلاحات کے مطالبے کا حق حاصل ہے، لیکن کوئی بھی فرد، گروہ یا تنظیم قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

عوام کے حقیقی مفادات امن، استحکام، معاشی ترقی، تعلیم اور روزگار میں ہیں، نہ کہ ایسے بیانیوں میں جو تقسیم، بداعتمادی اور تصادم کو فروغ دیں۔

بلوچستان کا روشن مستقبل

بلوچستان کے عوام امن، عزت، خوشحالی، ترقی اور مساوی مواقع کے حق دار ہیں۔ یہ مقاصد تشدد، انتشار اور تصادم کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی جدوجہد، جمہوری عمل، تعمیری مکالمے، قانون کی حکمرانی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کا مستقبل نفرت، تقسیم اور بدامنی میں نہیں بلکہ تعلیم، ترقی، قومی یکجہتی اور پائیدار امن میں پوشیدہ ہے۔

بلوچستان کے عوام امن، خوشحالی، وقار اور مواقع کے حق دار ہیں۔ یہ مقاصد آئینی جدوجہد، پرامن مکالمے اور اجتماعی ترقیاتی کوششوں کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں، نہ کہ عدم استحکام، تصادم یا ایسے ایجنڈوں کی حمایت سے جو صوبے اور اس کے مستقبل کو کمزور کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا جھنڈا جلانے والی کارکن کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے ہی تھا، سرفراز بگٹی

نفرت اور تقسیم نہیں، قانون اور ترقی ہی آگے کا رستہ ہیں

بلوچستان کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ترقی، تعلیم، روزگار اور سیاسی استحکام کے راستے پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا ایسے بیانیوں کے پیچھے چلنا چاہتے ہیں جو صوبے کو مسلسل تصادم، بے یقینی اور انتشار کی طرف دھکیلتے ہیں۔ بی وائی سی کی حالیہ مہم عدالتی فیصلوں کو متنازع بنانے، ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور کرنے اور نوجوانوں میں احساسِ محرومی کو ہوا دینے کی ایک منظم کوشش ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش حقیقی چیلنج غربت، بے روزگاری، پسماندگی اور دہشتگردی ہیں، جن کا حل احتجاجی نعروں یا اشتعال انگیز بیانیوں میں نہیں بلکہ تعلیم، سرمایہ کاری، آئینی جدوجہد اور جمہوری عمل میں پوشیدہ ہے۔

ان کے مطابق جو عناصر ہر معاملے کو ریاست مخالف بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ درحقیقت بلوچستان کے نوجوانوں کو تعمیری راستے سے ہٹا کر ایک ایسے سیاسی تعطل کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا نقصان سب سے زیادہ خود بلوچستان کو ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قانون کی عملداری، عدالتی فیصلوں کا احترام اور پرامن سیاسی جدوجہد ہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، لیکن یہ مستقبل نفرت، تقسیم اور مسلسل محاذ آرائی سے نہیں بلکہ امن، ترقی، تعلیم اور قومی دھارے میں مؤثر شمولیت سے ہی روشن ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp