شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایٹمی طاقت بڑھانے کا اعلان کر دیا

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر جوہری ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مضبوط بنانا ہی ملک کے دفاع کا واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے امریکا اور جنوبی کوریا پر خطے میں تناؤ بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے جوہری اور روایتی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ جدید جنگی سازوسامان کی تیاری تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے (KCNA) کے مطابق کم جونگ اُن نے اس عزم کا اظہار حکمران ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا، جو ہفتے سے پیر تک جاری رہا۔

کم جونگ اُن نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض بالادست قوتوں کی ’ غنڈہ گردی پر مبنی ہوسِ اقتدار ‘ کے باعث دنیا بھر میں ایسے حیران کن واقعات رونما ہو رہے ہیں جن سے مختلف خطوں میں تصادم اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریزی کا ذمہ دار بھی امریکا کو قرار دیا۔

امریکا اور جنوبی کوریا پر سنگین الزامات

شمالی کوریائی رہنما نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر اپنی جوہری دفاعی حکمت عملی کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں، جس کا اصل مقصد شمالی کوریا کو نشانہ بنانا ہے۔

کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا کہ جوہری قوت کو مسلسل وسعت دینا، اسے مزید مضبوط بنانا اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کی حیثیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانا ہی موجودہ بین الاقوامی فوجی اور سیاسی حالات کا مؤثر جواب ہے۔

یہ بھی پڑھیے ’جوہری تخفیف کا معاملہ ختم ہو چکا ہے‘،شمالی کوریا کا سخت مؤقف

تاہم سرکاری خبر رساں ادارے نے اس حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کے لیے کون سے عملی اقدامات کرے گا۔

جدید جنگی سازوسامان کی تیاری تیز کرنے کا حکم

رپورٹ کے مطابق کم جونگ اُن نے روایتی فوجی ہتھیاروں کی صلاحیت میں اضافے اور 10 ہزار ٹن وزنی اسٹریٹجک گائیڈڈ میزائل کروزر کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

سیول میں قائم یونیورسٹی آف نارتھ کورین اسٹڈیز کے پروفیسر یانگ مو جن کے مطابق کم جونگ اُن کے حالیہ بیانات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پیانگ یانگ اب بھی جوہری تخفیفِ اسلحہ کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتا ہے اور خود کو ایک تسلیم شدہ جوہری ریاست کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا ایک مرتبہ پھر واضح کر رہا ہے کہ جوہری تخفیف سے متعلق مذاکرات اب اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔ اگر مستقبل میں کوئی بات چیت ہوتی بھی ہے تو وہ صرف ایک جوہری ریاست کے طور پر برابری کی سطح پر ہوگی، جس میں ممکنہ طور پر ہتھیاروں میں کمی جیسے امور زیرِ بحث آسکتے ہیں، نہ کہ جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے کا معاملہ۔

پابندیوں کے باوجود جوہری پروگرام جاری

ماہرین کے مطابق ایسی کسی بھی بات چیت کے لیے شمالی کوریا کی کم از کم دفاعی جوہری صلاحیت کو تسلیم کرنا اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی دینا ضروری ہوگا، جو ماضی میں پیش کی جانے والی مرحلہ وار جوہری تخفیف کی تجاویز سے بالکل مختلف تصور کیا جاتا ہے۔

یانگ مو جن نے مزید کہا کہ پارٹی اجلاس میں امریکا اور جنوبی کوریا کے نیوکلیئر کنسلٹیٹو گروپ اور جنوبی کوریا کی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز بنانے کی خواہش کا حوالہ دے کر پیانگ یانگ اپنی جوہری قوت میں اضافے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے شمالی کوریا کا جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کو ماننے سے انکار

واضح رہے کہ شمالی کوریا 2006 سے 2017 کے درمیان اقوامِ متحدہ اور امریکا کی جانب سے عائد متعدد پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں اور انہیں لے جانے والے میزائلوں کی تیاری سے روکنا تھا۔

شمالی کوریا خود کو پہلے ہی ایک جوہری ریاست قرار دے چکا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ امریکا، چین اور جنوبی کوریا کی برسوں پر محیط سفارتی کوششوں کے باوجود کوئی بھی چیز اسے اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔

کوئلے کی صنعت کو جدید بنانے پر بھی زور

ورکرز پارٹی کے اجلاس میں توانائی کے شعبے، خصوصاً کوئلے کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور معدنی علاقوں کی ترقی کو بھی ترجیحی اہداف میں شامل کیا گیا۔

کم جونگ اُن نے کوئلے کے شعبے کی ترقی کو ایک اسٹریٹجک ترجیح قرار دیا، جبکہ ماہرین کے مطابق کوئلہ اب بھی شمالی کوریا کا بنیادی توانائی کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صنعت کی جدید کاری کا مقصد ملک میں طویل عرصے سے جاری توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp