شمالی نے کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے کسی بھی معاہدے کا پابند نہیں اور اپنے جوہری پروگرام پر عالمی دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ، علاقائی کشیدگی میں اضافہ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے نے اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مستقل نمائندے کم سونگ کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا اور بعض دیگر ممالک این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا معاملہ اٹھا کر ماحول خراب کر رہے ہیں۔

کم سونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری طاقت کی حیثیت کسی بیرونی دباؤ یا بیان بازی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے امریکا اور دیگر ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے “حقیقی اور جائز” جوہری حق کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
شمالی کوریا نے 1985 میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم 2003 میں امریکا کے ساتھ تنازع کے بعد اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا، جس کی قانونی حیثیت پر اب بھی بحث جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے درمیان 2018 اور 2019 میں ملاقاتیں بھی ہوئیں، تاہم بعد میں مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کا بحری جنگی جہاز سے کروز اور اینٹی شپ میزائلوں کا تجربہ
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کے پاس اتنا جوہری مواد موجود ہو سکتا ہے جس سے درجنوں جوہری وار ہیڈز تیار کیے جا سکتے ہیں۔














