سنگاپور کے علاقے بیڈوک میں ایک نجی فلیٹ کی صفائی کے دوران رضاکاروں کو کچرے کے ڈھیر سے ہزاروں ڈالرز مالیت کے سکے اور سونے کی زنجیریں مل گئیں۔ یہ فلیٹ ایک 70 سالہ عمر رسیدہ خاتون کا ہے، جو اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ گزشتہ 10 سال سے زائد عرصے سے اس گھر میں رہ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں درختوں کو ’حقوق رکھنے والی زندہ مخلوق‘ قرار دے دیا گیا
والدین کے انتقال کے بعد دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کا سہارا لیا، لیکن والدہ کی وفات کے بعد گھر میں الیکٹرانک اشیاء، گتے کے ڈبوں اور کپڑوں کے ڈھیر اس حد تک بڑھ گئے کہ چلنے کے لیے صرف ایک تنگ راستہ باقی بچا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی چھوٹی بہن ذہنی تناؤ اور خراب صحت کے باعث چیزیں جمع کرنے کی عادی ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے فلیٹ کی حالت بدترین ہو گئی۔
گھر میں کھٹملوں کی اس قدر کثرت تھی کہ بڑی بہن کو ان کے کاٹنے سے بچنے کے لیے کئی مہینوں تک باتھ روم میں سونا پڑا۔ اس صورتحال کا علم اس وقت ہوا جب رواں ماہ کے آغاز میں چھوٹی بہن اسپتال میں داخل ہوئیں اور وہاں کے ایک سوشل ورکر نے رضاکار تنظیم سے رابطہ کیا۔
سماجی تنظیم ‘اے ایم کے ایس ایس سوشل موو’ کے بانی مائیکل سم کی قیادت میں 20 سے 30 رضاکاروں اور ٹاؤن کونسل کے عملے نے مسلسل 8 گھنٹے کام کر کے فلیٹ کی صفائی کی۔ اسی صفائی کے دوران رضاکاروں کو کچرے کے تھیلوں سے 10 کلو گرام سے زائد وزنی سکوں کا ذخیرہ اور سونے کی چینز ملیں، جو ان کی مرحومہ والدہ کی تھیں۔
خاتون نے ان اشیا کی برآمدگی پر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صفائی نہ ہوتی تو انہیں کبھی معلوم نہ ہوتا کہ یہ چیزیں گھر میں موجود ہیں۔ مائیکل سم کے مطابق فلیٹ کی صفائی اور کیڑے مکوڑوں کے خاتمے کے لیے اب تک 5 چکر لگائے جا چکے ہیں، جبکہ گھر کی مرمت اور رنگ روغن کے لیے رضاکاروں نے اپنی جیب سے 2000 سنگاپور ڈالرز کے اخراجات بھی برداشت کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 50 پینس کا معمولی برطانوی سکہ راتوں رات قیمتی ترین اثاثہ بن گیا
خاتون نے تمام رضاکاروں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے، جنہوں نے ان کا گھر رہنے کے قابل بنایا۔














