امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کو امریکی عوام کی واضح اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی شہری دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے حامی ہیں جبکہ صرف 26 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور 7 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایک نئے سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی، امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے بقول امریکی عوام کی اکثریت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے حق میں ہے۔
یہ سروے معروف ریپبلکن پولنگ ادارے فیبریزیو، لی اینڈ ایسوسی ایٹس نے 16 سے 18 جون کے دوران 1,500 افراد سے رائے لے کر تیار کیا جسے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔
اس سے قبل کوانٹس نامی ادارے کے ایک الگ سروے میں بھی امن معاہدے کو 56 فیصد عوامی حمایت حاصل ہونے کا انکشاف ہوا تھا جبکہ سی بی ایس نیوز/یوگوو کے حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی اکثریت چاہتی ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع مزید آگے نہ بڑھائے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ جنگ بندی اور مذاکرات کا فریم ورک نافذ کیا گیا ہے تاہم حتمی معاہدے کے لیے آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں بین الاقوامی تعاون اور مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، آئل ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ
معاہدے کے تحت امریکی انتظامیہ نے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے، علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام کرنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
Poll: 67% of Americans Support U.S.-Iran Peace Deal
"The majority of Americans are in favor of the ceasefire deal between the United States and Iran."https://t.co/qIOMct83To
— Karoline Leavitt (@PressSec) June 23, 2026
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔
معاہدے کے مطابق ایران کو اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیت ختم کرنے کی شرط عائد نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں تو ایران کے لیے مکمل پابندی عائد کرنا منصفانہ نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیار سب سے بڑا مسئلہ ہیں جبکہ بیلسٹک میزائل اور ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے معاملات پر بھی آئندہ مذاکرات میں بات ہوگی۔
معاہدے کی مختلف شقوں پر عمل درآمد کے لیے 30 سے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی ہے جبکہ دستاویز میں دونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ طے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے تاریخی کامیابی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی
اگرچہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں نے امن معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کیے تاہم اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی۔ ثالث ممالک پاکستان اور قطر کے مطابق مذاکرات حوصلہ افزا پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے جس سے حتمی معاہدے کی امید مزید مضبوط ہوئی۔














