سولر پینلز پر ٹیکس نہ لگانے اور پیٹرول سستا ہونے سے کیا بدلے گا؟

اتوار 28 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں توانائی اور معیشت سے متعلق حالیہ دنوں میں 2 اہم پالیسی فیصلے سامنے آئے ہیں۔ ایک جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہے جبکہ دوسری جانب سولر سسٹمز پر نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی نئی سولر پالیسی، کیا اب پاکستان میں سولر پینل تیار ہوں گے؟

واضح رہے کہ بجٹ سے قبل سولر پینلز پر ٹیکس عائد کیے جانے کی قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں جس کے باعث مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم بجٹ میں کسی قسم کا نیا ٹیکس نافذ نہ کیے جانے کے بعد مارکیٹ میں قیمتیں دوبارہ نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دونوں فیصلے نہ صرف توانائی کے استعمال کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ مہنگائی کی مجموعی رفتار اور عوام کو ملنے والے ریلیف پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان فیصلوں کا فائدہ حقیقی معنوں میں عام صارف تک پہنچ سکے گا یا نہیں؟

اس حوالے سے معاشی ماہر شہباز رانا کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً 11 فیصد کے قریب ہے تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد مہنگائی میں اضافے کی رفتار سست ہونے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق اس فیصلے کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ اگر ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوتے ہیں تو سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، کیونکہ ان کی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ نقل و حمل کے اخراجات پر منحصر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا پاکستان میں سولر پینل کی مینوفیکچرنگ ممکن ہے؟

شہباز رانا کا کہنا ہے کہ حقیقی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست صارف تک منتقل کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت کو ریلیف اور ریونیو کے درمیان ایک واضح اور مستقل پالیسی اپنانا ہوگی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات تو پاکستان کو برداشت کرنا ہی پڑتے ہیں تاہم اگر ایف بی آر کے ٹیکسز میں کمی کی جاتی ہے تو حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے بقول پیٹرولیم لیوی کی ایک واضح حد مقرر ہونی چاہیے تاکہ بار بار پالیسی تبدیلیوں سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔

صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے محمد وسیم ملک کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے صنعتی پیداوار کی لاگت پر براہِ راست مثبت اثر پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات صنعتی لاگت کا اہم حصہ ہوتے ہیں اس لیے ایندھن سستا ہونے سے مجموعی پیداواری لاگت میں کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں کی کارکردگی بہتر اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔

ان کے مطابق اس کا فائدہ صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سپلائی چین کے ذریعے صارفین تک بھی منتقل ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی آنے کی امید ہے۔

محمد وسیم ملک کا کہنا ہے کہ دوسری جانب سولر سسٹمز پر نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کے فیصلے کو بھی صنعتی ماہرین مثبت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا جس سے طویل مدت میں بجلی کے اخراجات کم ہوں گے اور صنعتوں کو توانائی کے متبادل ذرائع مزید آسانی سے دستیاب ہو سکیں گے۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنی پاکستان میں سولر پینل فیکٹری لگانے کے لیے تیار؟

انہوں نے بتایا کہ صنعتوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی سولر توانائی کی جانب منتقل ہو چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف ان کا انحصار روایتی ایندھن پر کم ہوا ہے بلکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے اثرات بھی کسی حد تک محدود ہوئے ہیں جو مجموعی طور پر صنعتی مسابقت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے مزید ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ ان صنعتوں کے لیے خوش آئند ہے جو آئندہ سولر سسٹمز نصب کرنا چاہتی ہیں۔

سولر توانائی کے شعبے سے وابستہ شرجیل احمد سلہری کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ مارکیٹ اور صارفین دونوں کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل ٹیکس سے متعلق قیاس آرائیوں نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی تھی جس کے نتیجے میں سولر پینلز کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں، تاہم بجٹ کے بعد مارکیٹ میں استحکام آیا ہے اور خریداروں کے اعتماد میں بھی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سولر پینل کتنے درجہ حرارت پر زیادہ بجلی بناتا ہے؟

شرجیل احمد سلہری نے کہا کہ بجلی کے بلند نرخوں کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین کی سولر سسٹمز میں دلچسپی برقرار رہے گی تاہم صرف ٹیکس نہ لگانے کے فیصلے کی بنیاد پر مارکیٹ میں غیر معمولی یا تیز رفتار ترقی کی توقع کرنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عوام کی محدود بچت اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث سولر مارکیٹ کی نمو توقعات سے کم رہ سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سولر پینلز پر اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تاہم خام مال اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت اب بھی دباؤ کا شکار ہے، جس کا اثر صارفین کے فیصلوں پر پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سولر توانائی کا فروغ صارفین کے بجلی کے اخراجات کم کرنے اور قومی گرڈ پر بوجھ گھٹانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس شعبے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب منتقلی اور اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیکس کا خدشہ ختم، کیا اب سولر پینلز سستے ہوں گے؟

ان کے مطابق پالیسیوں میں تسلسل اور واضح حکومتی حکمت عملی ہی سرمایہ کاروں اور صارفین کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتی ہے جس کے نتیجے میں سولر توانائی ملک کے توانائی بحران کے حل میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp