وفاقی بجٹ 27-2026 سے قبل سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافے کی افواہوں نے مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی تھی، جس کے باعث کئی شہروں میں سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم بجٹ پیش کیے جانے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ سولر پینلز پر کسی نئے ٹیکس یا ڈیوٹی میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
ایسے میں اب سوال یہ ہے کہ کیا افواہوں کے باعث بڑھنے والی قیمتیں واپس نیچے آئیں گی یا پھر گرمیوں کے سیزن اور طلب میں اضافے کے باعث موجودہ نرخ برقرار رہیں گے؟
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کا بڑا فیصلہ، سولر پینلز پر مجوزہ ٹیکس واپس
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سولر انڈسٹری کے ماہر محمد حمزہ رفیع نے موجودہ مارکیٹ صورتحال اور قیمتوں میں حالیہ تبدیلیوں پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ سولر پینلز پر کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں جو قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، وہ دراصل سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں اور مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کا نتیجہ تھا، کیونکہ ٹیکس بڑھنے کی توقع پر سرمایہ کار پہلے ہی سے اسٹاک جمع کرنے لگے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ عارضی تھا اور اصل لاگت کے مقابلے میں مارکیٹ ریٹ غیر حقیقی طور پر اوپر چلا گیا، تاہم اب جب واضح ہو چکا ہے کہ ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، تو سرمایہ کار اپنی موجودہ لاگت کے مطابق مال کو مارکیٹ میں لانے کی کوشش کریں گے۔ اسی وجہ سے آئندہ 15 سے 20 دنوں میں قیمتوں میں بتدریج کمی کا امکان موجود ہے، تاہم یہ کمی ایک دم نہیں بلکہ آہستہ آہستہ سامنے آئے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیک سیزن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ طلب بڑھنے کی وجہ سے قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان نہیں ہوگا، بلکہ مارکیٹ ریٹس زیادہ تر دستیابی اور ڈیمانڈ پر منحصر رہیں گے۔ البتہ وہ اضافہ جو ٹیکس لگنے کی افواہوں کے باعث متوقع تھا، وہ اب مارکیٹ میں نہیں آئے گا اور قیمتیں اسی موجودہ سطح کے آس پاس مستحکم رہیں گی۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق صارفین کے لیے بہتر خریداری کا وقت تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہوگا، جب مارکیٹ مکمل طور پر مستحکم ہو جائے گی اور ریٹس اپنی حقیقی سطح پر آ جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوری خریداری ضروری نہیں، اور صارفین تھوڑا انتظار کر کے بہتر قیمت حاصل کر سکتے ہیں، کیونکہ مارکیٹ اب آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں:بجٹ سے قبل سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کی وجہ کیا ہے؟
سولر انسٹالیشن کے ماہر محمد گل باز نے موجودہ مارکیٹ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صارفین کو محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق جون کے مہینے میں سولر سسٹمز کی فوری خریداری سے گریز کرنا بہتر ہے کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت چین کی مارکیٹ میں بھی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر کم ہو رہی ہیں، تاہم مارکیٹ کی صورتحال ابھی غیر یقینی ہے، اس لیے حتمی طور پر کسی واضح اسٹیبل لیول کا تعین مشکل ہے۔
محمد گل باز کے مطابق فی الحال فی واٹ قیمت میں قریباً 5 سے 7 روپے تک کمی کا امکان موجود ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ کمی چین کی سپلائی اور عالمی مارکیٹ ٹرینڈز پر منحصر ہوگی، اس لیے صورتحال کو ڈیلی مانیٹر کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے، لیکن صارفین کو جلد بازی میں خریداری نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ آئندہ دنوں میں ریٹس مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
سولر انڈسٹری کے ماہر شرجیل احمد سلہری کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز پر نیا ٹیکس عائد نہ ہونے کے باوجود فوری طور پر قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات محدود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خام مال کی لاگت پہلے ہی بڑھ چکی ہے جبکہ ٹرانسپورٹیشن، ہینڈلنگ اور دیگر لاجسٹک اخراجات میں بھی کسی کمی کی توقع نہیں، جس کے باعث مارکیٹ ریٹس فی الحال موجودہ سطح پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بجٹ سے قبل ٹیکس میں اضافے کی افواہوں نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کی، تاہم موجودہ قیمتوں کا انحصار صرف ٹیکس پالیسی پر نہیں بلکہ درآمدی لاگت، سپلائی چین اور کرنسی کی صورتحال جیسے عوامل پر بھی ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟
شرجیل احمد سلہری کے مطابق صارفین کے لیے قیمتوں میں حقیقی کمی کا امکان اسی صورت پیدا ہو سکتا ہے جب پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری آئے اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ مستحکم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سولر انڈسٹری کا بڑا حصہ درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے ایکسچینج ریٹ میں بہتری براہِ راست صارفین کو ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔
ان کے نزدیک موجودہ حالات میں سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا، جبکہ مختصر مدت میں مارکیٹ نسبتاً مستحکم رہنے کا امکان زیادہ ہے۔













