عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا اور قیمتیں گزشتہ سیشن میں دیکھی گئی تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد خلیج میں پھنسے مزید آئل ٹینکروں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی توقع پیدا ہوگئی ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 37 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 76.71 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 36 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 72.85 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں نرمی کی امید، خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں
منگل کے روز دونوں بینچ مارک تقریباً ایک فیصد گر گئے تھے اور مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
اس ہفتے تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس وقت بڑھا جب واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو 60 روزہ پابندیوں میں نرمی دیدی، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی۔
دوسری جانب لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی منڈی کو سہارا دیا۔
Thirty-nine vessels passed through the Strait of Hormuz on Monday, capping the busiest three-day traffic period since the U.S. and Israel attacked Iran in late February, according to Kpler, a global maritime data company. Traffic was still a fraction of what it was before the war… pic.twitter.com/uH4BGc24hn
— Mintel World (@mintelworld) June 23, 2026
مٹسوبشی یو ایف جے ریسرچ اینڈ کنسلٹنگ کے سینئر ماہر اقتصادیات تومومیچی اکوتا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے کی توقعات نے خام تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جوہری مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوتی ہے تو قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔
منگل کے روز عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا: کیا پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں؟
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے کہا کہ اگر ایران بحری گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔
تاہم معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران غیر معینہ مدت تک جوہری تنصیبات کے معائنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
جبکہ تہران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔

سرمایہ کار اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کتنی جلدی اپنی برآمدات مکمل طور پر بحال کرتے ہیں اور آیا مزید جہاز خطے میں داخل ہو سکیں گے یا نہیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے روز خلیج میں پھنسے 3 بڑے سپر ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب رہے۔
اقوام متحدہ کے شپنگ ادارے کے مطابق امریکا-ایران جنگ بندی معاہدے کے بعد خلیج میں پھنسے تقریباً 11 ہزار ملاحوں اور سینکڑوں جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے انخلا اور نقل و حرکت کا منصوبہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے متعلق قرارداد نے میرا کام مشکل بنادیا، مگر مقصد حاصل کر کے رہوں گا، ٹرمپ
دوسری جانب امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا کے خام تیل کے ذخائر 7 لاکھ 65 ہزار بیرل کم ہوئے۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے میں شامل نو ماہرین نے اوسطاً اندازہ لگایا تھا کہ خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 45 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں امن و استحکام کی صورتحال مزید بہتر ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر آتی ہے تو آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔














