ایران سے متعلق قرارداد نے میرا کام مشکل بنادیا، مگر مقصد حاصل کر کے رہوں گا، ٹرمپ

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے خاتمے کے لیے کانگریس کی منظور کردہ قرارداد کو ’غلط وقت پر لائی گئی اور بے معنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سازوں نے ان کا کام مشکل ضرور بنا دیا ہے۔

تاہم ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنا مقصد حاصل کر لیں گے، ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے مطالبے پر مبنی ایک بڑی حد تک علامتی قرارداد منظور کی۔

اس اقدام کو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک نئے سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ انتظامیہ تہران کے ساتھ ایک طویل المدتی معاہدے کے حصول کے لیے مذاکراتی کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کرلی

ایوان نمائندگان سے پہلے ہی منظور ہونے والی اس قرارداد کو سینیٹ نے 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کیا۔

قرارداد کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانا ہوں گی، جب تک کہ کانگریس واضح طور پر کسی نئی فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔

اگرچہ یہ ایک مشترکہ قرارداد ہے جس کے لیے صدارتی دستخط درکار نہیں ہوتے اور اس کی قانونی حیثیت پر اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم اس ووٹنگ نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خلاف ریکارڈ پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ تنازع فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوا تھا، جو بعد ازاں لبنان اور خلیجی ریاستوں تک پھیلتے ہوئے ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر گیا۔

قرارداد کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ابتدائی مفاہمت کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے 60 روزہ سفارتی مہم شروع کر رکھی ہے۔

مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل جیسے اہم معاملات کا احاطہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی عوام کی اکثریت ایران امریکا امن معاہدے کے حق میں، سروے رپورٹ

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد چک شومر نے ووٹنگ کروانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ بعض ریپبلکن ارکان بھی جنگ اور اسے ختم کرنے کے حکومتی طریقہ کار پر تحفظات رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل شومر نے کہا کہ ریپبلکن بند دروازوں کے پیچھے ٹرمپ کی جنگ، اس کی خفیہ پالیسیوں اور ایران کے ساتھ تباہ کن معاہدے پر جتنی چاہیں تنقید کر لیں، لیکن اس جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کا واحد راستہ عملی اقدام ہے۔

اس سے قبل ریپبلکن اکثریت والے ایوان نمائندگان نے بھی 4 ریپبلکن اور تمام ڈیموکریٹ اراکین کی حمایت سے قرارداد منظور کی تھی، جو قومی سلامتی اور جنگی معاملات پر ٹرمپ سے ایک غیر معمولی اختلاف کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی، امریکا ایران پائیدار امن معاہدے تک پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم

ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر کے امریکی آئین کی خلاف ورزی کی۔

1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت امریکی صدر کو کسی بھی فوجی تنازع میں افواج شامل کرنے کے 60 روز کے اندر کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے، تاہم مختلف امریکی انتظامیہ اس قانون کے اطلاق سے متعلق مختلف تشریحات پیش کرتی رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر کے اختیارات محدود کرنے کی کوششیں غیر آئینی ہیں اور اپریل میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کرائی گئی جنگ بندی کے بعد تنازع عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔

انتظامیہ کا یہ بھی مؤقف ہے کہ صدارتی اختیارات محدود کرنے سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں واشنگٹن کی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ووٹنگ سے قبل خبردار کیا تھا کہ حساس مذاکرات کے دوران کمانڈر اِن چیف کے اختیارات محدود کرنا ’انتہائی خطرناک اقدام‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں قانونی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی دھمکیوں نے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ایران تنازع نے کانگریس میں معاشی اثرات کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

تجارتی راستوں میں رکاوٹوں اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp