عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
تاہم، ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ آئندہ قیمتوں میں بڑی کمی کے امکانات کم ہیں اور عوام کو صرف معمولی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران میں کمی کے امکانات روشن، متبادل ذرائع سے تیل آنا شروع
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر تقریباً 69 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ جنگ اور علاقائی کشیدگی سے قبل بھی خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے زائد تھی۔
عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67.30 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، جس سے عوام کو خاطر خواہ ریلیف ملا تھا۔

گزشتہ جمعے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے باعث اب آئندہ قیمتوں کے تعین سے قبل ملک بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید بڑی کمی کرے گی یا نہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں کا تعین صرف خام تیل کی قیمت کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا، بلکہ اس میں پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی لاگت، شرحِ مبادلہ اور دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے پر وفاقی حکومت نے سبسڈی واپس لے لی
ماہرِ معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے اس حوالے سے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر وصول کی جانے والی پیٹرولیم لیوی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
ان کے مطابق حکومت اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر مختلف مد میں تقریباً 160 روپے فی لیٹر تک محصولات اور پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ جمعے کے مقابلے میں مزید کم ہوئی ہیں، جس کے باعث پاکستان میں آئندہ قیمتوں کے تعین کے دوران کمی کا امکان موجود ہے، تاہم یہ کمی محدود اور معمولی ہو سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کار شہباز رانا کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ضرور ہوئی ہے اور اس کے باعث مقامی سطح پر قیمتیں کم ہونے کا امکان موجود ہے۔

تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف خام تیل کی قیمت سے نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ درآمدی اخراجات، روپے کی قدر، ٹیکسز، پیٹرولیم لیوی اور دیگر مالیاتی عوامل بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اسی لیے امکان یہی ہے کہ آئندہ قیمتوں میں معمولی کمی کی جائے گی، جبکہ کسی بڑی کمی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی، مگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی وعدوں تک محدود
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آئندہ دنوں میں مزید کم ہوتی رہیں تو پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔
تاہم، موجودہ حالات میں بڑی کمی کے بجائے معمولی کمی کے امکانات زیادہ نظر آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ دو روز بعد ہونے والے پیٹرولیم مصنوعات کے نئے جائزے میں حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں محدود کمی کا اعلان کر سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومت اوگرا کی سمری کی روشنی میں کرے گی۔














