وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے دی جانے والی ایندھن سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں اور عوامی و مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے سبسڈی پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آتے ہی فائدہ عوام کو پہنچائیں گے، وزیرِ خزانہ
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آچکی ہے اور اس کا فائدہ پہلے ہی صارفین تک منتقل کیا جا چکا ہے۔
اس بنیاد پر کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے سبسڈی اسکیم ختم کرنے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کمیٹی کی کارکردگی اور بین الصوبائی رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پروگرام کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کو ڈیٹا اور ترسیلی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور مستقبل میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
Deputy Prime Minister & Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired the 7th meeting of the National Steering Committee on Fuel Subsidy.
The Committee reviewed the rollout of fuel subsidy for motorcyclists, small farmers, public transport & goods transport in… pic.twitter.com/I4X55tPKNV
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 22, 2026
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ یہ سبسڈی پروگرام رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی، مگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی وعدوں تک محدود
اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر 50 سے 100 روپے تک سبسڈی دی جاتی تھی۔
جبکہ عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو کرایوں اور نقل و حمل کے اخراجات کم رکھنے کے لیے ماہانہ 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔ چھوٹے کسانوں کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جاتی تھی۔
گزشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے 28 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے 31 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ایک سال میں کتنے ارب ڈالر خرچ کیے گئے؟
قیمتوں میں یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے اور عالمی تیل کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد سامنے آئی۔
رواں سال اپریل میں عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں۔ پیٹرول کی قیمت 137 روپے اضافے کے بعد 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا تھا۔
پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، رکشوں اور موٹرسائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل مال برداری اور زرعی شعبے میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے کے باعث مہنگائی اور سپلائی چین پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔














