پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی معاملات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی پارٹی معاملات میں مداخلت پر خاموشی توڑ دی ہے، پارٹی رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں خواتین کی پارٹی معاملات میں مداخلت سامنے لائی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی کے اندرونی معاملات، اراکینِ اسمبلی سے جھگڑے اور بدتمیزی کے الزامات پر سخت ایکشن لیتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی سے ضلعی صدارت واپس لے لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
اقبال آفریدی کو پارلیمانی پارٹی سے بھی خارج کردیا گیا ہے جبکہ پارٹی کی جانب سے انہیں باقاعدہ شوکاز نوٹس بھی جاری کیا جاچکا ہے۔ پارٹی قیادت اب اقبال آفریدی کی بنیادی رکنیت مکمل طور پر ختم کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ حلیمہ خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی پارٹی امور میں مبینہ مداخلت سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے، اراکینِ اسمبلی کی اکثریت کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں خواتین بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔
واضح رہے کہ پارٹی معاملات اور سیاسی فیصلوں میں ان دونوں خواتین کی مبینہ مداخلت پر تحریک انصاف کے اندر طویل عرصے سے شدید اختلافات اور سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی جیل منتقلی کے بعد بشریٰ بی بی کی جانب سے پارٹی قیادت کو مبینہ طور پر براہِ راست ہدایات جاری کرنے اور پشاور میں سیاسی بیٹھکیں کرنے پر شیرافضل مروت اور دیگر سینیئر رہنماؤں نے ماضی میں کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ سیاسی فیصلے سیاسی قیادت کو ہی کرنے دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل
دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ حلیمہ خان پر بھی پارٹی کے اندرونی دھڑوں کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے بعد بانی پی ٹی آئی کے پیغامات کو مبینہ طور پر اپنی مرضی سے سنسر یا تبدیل کر کے سامنے لاتی ہیں۔
پارٹی کے پارلیمانی گروپ اور مخلص اراکین کا ماننا ہے کہ خواتین کی اس غیر ضروری مداخلت کے باعث پارٹی کے اہم بیانیے، احتجاجی تحریکوں اور قانونی حکمتِ عملی کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث اب اراکین نے اس معاملے پر کھل کر سامنے آنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔














