وینزویلا میں آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے طاقتور زلزلوں کے دوران متعدد اینڈرائیڈ صارفین نے اطلاع دی کہ انہیں زمین لرزنے سے چند سیکنڈ پہلے گوگل کی جانب سے انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں 7.5 شدت کا زلزلہ: 164 ہلاکتوں کی تصدیق، جانی و مالی نقصان میں بے پناہ اضافے کا خدشہ
یہ جدید نظام دراصل دنیا بھر میں موجود تقریباً 2 ارب اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کے نیٹ ورک پر کام کرتا ہے جو ایک طرح کے زلزلہ پیما سینسرز کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے تمام اسمارٹ فونز میں ایک ایکسلیرومیٹر موجود ہوتا ہے جو عام طور پر فون کی اسکرین کو گھمانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی سینسر زمین میں پیدا ہونے والی غیر معمولی لرزشوں کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
زلزلے کی پیشگی وارننگ کیسے دی جاتی ہے؟
جب کسی اینڈرائیڈ فون کا سینسر زلزلے جیسی کمپن محسوس کرتا ہے تو وہ خودکار طور پر لرزشوں کی معلومات اور اپنی جغرافیائی لوکیشن گوگل کے سرورز کو بھیج دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: وینزویلا، جاپان اور کیلیفورنیا زلزلے کے درمیان کیا تعلق تھا؟ ماہرینِ ارضیات کا انکشاف
اگر گوگل کا الگورتھم ایک مخصوص وقت کے دوران متعدد فونز سے ایک جیسی لرزشوں کا ڈیٹا موصول کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ زلزلہ آ رہا ہے۔ اس کے بعد ممکنہ خطرے والے علاقوں میں موجود صارفین کو فوری طور پر وارننگ بھیج دی جاتی ہے۔
چند سیکنڈ پہلے خبردار کرنا کیسے ممکن ہوتا ہے؟
اس نظام کی بنیاد زلزلے کے دوران پیدا ہونے والی 2 مختلف اقسام کی لہروں پر ہے۔
پی ویوز (پرائمری ویوز) تقریباً 6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں اور عموماً شدید جھٹکوں کا باعث نہیں بنتیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا: بیٹے کی تلاش میں دربدر ماں کی جستجو موت کے ساتھ ختم ہو گئی
اس کے برعکس ایس ویوز (سیکنڈری ویوز) تقریباً 3 سے 4 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور زیادہ تر تباہی انہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اینڈرائیڈ فونز ابتدائی پی ویوز کو محسوس کرتے ہی ان کا ڈیٹا انٹرنیٹ کے ذریعے گوگل سرورز تک پہنچا دیتے ہیں۔ چونکہ انٹرنیٹ سگنلز روشنی کے قریب رفتار سے سفر کرتے ہیں اس لیے گوگل ایس ویوز کے پہنچنے سے پہلے ہی صارفین کو خبردار کر سکتا ہے۔
گوگل کی وارننگز کی اقسام
اینڈرائیڈ کا یہ نظام دو مختلف نوعیت کی وارننگز جاری کرتا ہے۔
’بی اویئر‘ الرٹ ہلکی نوعیت کی لرزشوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جبکہ ’ٹیک ایکشن‘ وارننگ نسبتاً شدید زلزلے سے پہلے جاری کی جاتی ہے اور اس میں حفاظتی ہدایات، متوقع شدت اور زلزلے کے مرکز کی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روایتی زلزلہ پیما نظاموں کی عدم موجودگی میں بھی لاکھوں افراد کو قیمتی چند سیکنڈ فراہم کر سکتی ہے جو جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔














