وینزویلا: بیٹے کی تلاش میں دربدر ماں کی جستجو موت کے ساتھ ختم ہو گئی

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وینزویلا میں اپنے لاپتا اور قید بیٹے کی تلاش میں قریباً ایک سال تک دربدر رہنے والی 82 سالہ کارمین ناواس انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات اس واقعے کے صرف 10 روز بعد ہوئی جب حکومت نے تصدیق کی تھی کہ ان کا بیٹا ریاستی تحویل میں ہلاک ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟

غیر سرکاری تنظیم ’فورو پینال‘ کے مطابق کارمین ناواس اپنے 50 سالہ بیٹے وکٹر کیرو کے بارے میں معلومات کے لیے مسلسل حکام سے اپیل کرتی رہی تھیں۔ حکام نے حال ہی میں بتایا کہ ان کا بیٹا گزشتہ برس بدنام زمانہ روڈیو ون جیل میں سانس کی بیماری کے باعث ہلاک ہوگیا تھا۔

تنظیم کے سربراہ الفریڈو رومیرو کا کہنا تھا کہ جیل حکام طویل عرصے تک کارمین ناواس کو یہی کہتے رہے کہ انہیں ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو نے سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کارمین ناواس نے اپنے بیٹے کی تلاش میں خوف کے نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

مزید پڑھیں: بیس بال کلاسک، وینزویلا پہلی بار فائنل میں،امریکا سے ٹکرائے گا

انہوں نے کہا کہ صرف ایک ماں نہیں مری بلکہ وہ آواز خاموش ہوئی ہے جو ہزاروں لاپتا اور قید بچوں کی ماؤں کی نمائندہ بن چکی تھی۔

وینزویلا کی حکومت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی قیدی موجود نہیں اور گرفتار افراد نے عام جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں