وینزویلا میں اپنے لاپتا اور قید بیٹے کی تلاش میں قریباً ایک سال تک دربدر رہنے والی 82 سالہ کارمین ناواس انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات اس واقعے کے صرف 10 روز بعد ہوئی جب حکومت نے تصدیق کی تھی کہ ان کا بیٹا ریاستی تحویل میں ہلاک ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟
غیر سرکاری تنظیم ’فورو پینال‘ کے مطابق کارمین ناواس اپنے 50 سالہ بیٹے وکٹر کیرو کے بارے میں معلومات کے لیے مسلسل حکام سے اپیل کرتی رہی تھیں۔ حکام نے حال ہی میں بتایا کہ ان کا بیٹا گزشتہ برس بدنام زمانہ روڈیو ون جیل میں سانس کی بیماری کے باعث ہلاک ہوگیا تھا۔
تنظیم کے سربراہ الفریڈو رومیرو کا کہنا تھا کہ جیل حکام طویل عرصے تک کارمین ناواس کو یہی کہتے رہے کہ انہیں ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو نے سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کارمین ناواس نے اپنے بیٹے کی تلاش میں خوف کے نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
مزید پڑھیں: بیس بال کلاسک، وینزویلا پہلی بار فائنل میں،امریکا سے ٹکرائے گا
انہوں نے کہا کہ صرف ایک ماں نہیں مری بلکہ وہ آواز خاموش ہوئی ہے جو ہزاروں لاپتا اور قید بچوں کی ماؤں کی نمائندہ بن چکی تھی۔
وینزویلا کی حکومت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی قیدی موجود نہیں اور گرفتار افراد نے عام جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔













