پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا، 3 ماہ میں کتنی ٹرانزیکشنز ہوئیں؟

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان کے رسمی بینکاری نظام نے 3.7 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مجموعی مالیت 168.8 کھرب روپے رہی جبکہ ان میں سے 92 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے انجام دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ای-کامرس کے لیے نیا ٹیکس نظام متعارف، ہر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر ٹیکس لازمی

رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 3.4 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جن میں موبائل بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایمز، پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز اور ای کامرس پلیٹ فارمز شامل تھے۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں مجموعی ریٹیل ٹرانزیکشنز میں 9 فیصد اضافہ ہوا جو ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

موبائل بینکنگ ایپس سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ ثابت ہوئیں، جن کے ذریعے 2.9 ارب ٹرانزیکشنز کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 42 کھرب روپے رہی۔

برانچ لیس بینکنگ سروسز، کمرشل بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے فراہم کی جانے والی ان ایپس کے ذریعے صارفین نے رقم کی منتقلی، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور آن لائن و فزیکل ریٹیل اسٹورز پر خریداری جیسی سہولیات حاصل کیں۔

رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ بینکنگ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 5 فیصد جبکہ ان کی مالیت میں 19 فیصد اضافہ ہوا جو صارفین کے آن لائن مالیاتی خدمات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: ’خود مختار خاتون‘ : خواتین کے لیے ڈیجیٹل شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ پروگرام متعارف، مالی سہولت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟

اسٹیٹ بینک کے فوری ادائیگیوں کے نظام راست نے بھی اپنی مضبوط کارکردگی برقرار رکھی اور سہ ماہی کے دوران 742.1 ملین ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مجموعی مالیت 23.3 کھرب روپے رہی۔

راست کے ذریعے شخص سے شخص (پرسن ٹو پرسن) منتقلیوں کی تعداد 664 ملین رہی جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے جبکہ ان کی مالیت 18.9 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

اسی طرح شخص سے تاجر ٹرانزیکشنز میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں یہ تعداد 36.3 ملین سے بڑھ کر 55.9 ملین ہو گئی، جو ریٹیل کاروبار میں راست کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود روایتی بینکاری نظام بھی فعال رہا۔ ملک بھر میں موجود 20,232 بینک برانچز نے 128 ملین اوور دی کاؤنٹر ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مالیت 99.5 کھرب روپے رہی۔

اسی دوران 819,397 بینکنگ ایجنٹس کے ذریعے 155 ملین ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں جن کی مجموعی مالیت 1.1 کھرب روپے رہی جس سے ملک کے دور دراز علاقوں میں مالیاتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوئی۔

مزید پڑھیں: سینیٹ سیکرٹریٹ کا ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم قدم، اراکینِ سینیٹ کے لیے موبائل ایپ متعارف

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اعدادوشمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان تیزی سے ایک زیادہ جامع، مؤثر اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد مستقبل میں مالیاتی خدمات کی رسائی کو مزید وسیع بنا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مزید 5 امیدواروں کو ن لیگ کے ٹکٹ جاری

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

ٹی 20 ورلڈ کپ: آؤٹ ہونے پر پاکستانی بیٹر گل فیروزہ کا غصہ، سرزنش اور ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا