برطانیہ میں مہاجرین کی کفالت کی نئی اسکیمیں متعارف کرانے کا اعلان

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی وزارتِ داخلہ نے پناہ کے متلاشی افراد کے لیے نئے قانونی راستے متعارف کرانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب کمیونٹی تنظیموں کو کینیڈا کی طرز پر مہاجرین کی کفالت (اسپانسرشپ) کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی نیٹ ورکس ہم وطنوں کو ملازمتوں میں کیسے فائدہ پہنچاتے ہیں؟ برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں اہم انکشافات

وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے میڈیا کو بتایا کہ یہ نیا نظام رواں سال کے آخر تک نافذ العمل کر دیا جائے گا، جس سے کمیونٹی تنظیمیں اور بعض ’قابلِ اعتماد‘ جامعات مہاجرین کی کفالت کر سکیں گی۔ اس اسکیم کے تحت مہاجرین کے پہلے گروپ کی برطانیہ آمد خزاں 2027 میں متوقع ہے۔

برطانوی آجروں کو بھی مہاجرین بلانے کی اجازت

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق آئندہ سال ایک اور نئی اسکیم متعارف کرائی جائے گی جس کے تحت برطانوی آجروں (ایمپلائرز) کو بھی یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ مہاجرین کی کفالت کر سکیں، تاکہ پناہ گزین قانونی طور پر برطانیہ آ کر روزگار حاصل کر سکیں اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

امیگریشن برطانوی سیاست کا محور اور قوانین میں سختی

برطانیہ میں امیگریشن اور پناہ گزینوں کا معاملہ طویل عرصے سے شدید سیاسی بحث کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سخت گیر دائیں بازو کی جماعت ’ریفارم یو کے‘ نے تارکینِ وطن مخالف جذبات کی بنا پر عوامی حمایت میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکومت آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون پیش کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت، مسترد شدہ پناہ گزینوں کی ملک بدری کے عمل کو انتہائی آسان بنایا جائے گا۔ خاندانی ملاپ (فیملی ری یونین) کے حق کو مزید محدود کرتے ہوئے صرف قریبی ترین خاندان کے افراد تک ہی جائز قرار دیا جائے گا۔

برطانوی قیادت میں تبدیلی اور پالیسیوں کا مستقبل

یہ اعلانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اس ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم وہ نئے قائد کے انتخاب تک عبوری طور پر منصب پر برقرار ہیں۔

کیئر اسٹارمر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی امیگریشن پر سخت مؤقف اپنایا ہوا تھا۔ ان کے ممکنہ جانشین اینڈی برنہم کی امیگریشن پالیسی ابھی تک مکمل واضح نہیں ہے، لیکن انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہجرت سے متعلق برطانوی عوام کے خدشات کا اعتراف کیا تھا۔

مزید پڑھیں:جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی

اس سیاسی تبدیلی کے باعث یہ بھی غیر واضح ہے کہ آیا شبانہ محمود نئی حکومت میں وزارتِ داخلہ کے منصب پر برقرار رہ پائیں گی یا نہیں۔

’حقیقی مہاجرین کا استقبال کریں گے‘، وزیرِ داخلہ

اپنے پالیسی بیان کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ ’میں حقیقی مہاجرین کے لیے نئے قانونی راستے کھولوں گی، جبکہ سسٹم میں موجود ان تمام خامیوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گی جن کا اکثر عناصر کی جانب سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔‘

گنجائش میں اضافہ مگر تعداد محدود (کیپڈ) ہوگی

حکام کا کہنا ہے کہ یہ نئی اسپانسرشپ اسکیم موجودہ ’یو کے ری سیٹلمنٹ اسکیم‘ کے مقابلے میں کہیں زیادہ گنجائش کی حامل ہوگی، جس کے تحت ستمبر 2025 کو ختم ہونے والے سال میں صرف 800 کے قریب مہاجرین کو برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔

اگرچہ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نئی اسکیم سے مجموعی طور پر کتنے افراد فائدہ اٹھا سکیں گے، تاہم یہ صاف کر دیا گیا ہے کہ اس کے تحت آنے والے مہاجرین کی تعداد ایک مقررہ حد (کیپ) تک محدود رکھی جائے گی۔

ماضی کا ریکارڈ اور حالیہ تنقید

یاد رہے کہ برطانیہ اس سے قبل شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک کے شہریوں کے لیے خصوصی اسپانسرشپ اور آبادکاری پروگرام چلا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برطانوی یونیورسٹیوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبا کے داخلوں پر پابندی، سخت پالیسی نافذ

 تاہم رواں سال کے آغاز میں شبانہ محمود کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور خود اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب انہوں نے مہاجرین کی حیثیت کو عارضی قرار دیا اور افغانستان، میانمار اور سوڈان سمیت چند ممالک کے شہریوں کے لیے تعلیمی ویزوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن، رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

فیفا ورلڈ کپ 2026: سینیگال کی فٹبال ٹیم کے ساتھ ماہر امراض نسواں کو بھیجا گیا؟

اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق

وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات، انسانی تعاون بڑھانے پر اتفاق

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پولیس اہلکار اور عورت کا بہیمانہ قتل

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری