مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ سفارتی پیشرفت کے لیے قطر میں اہم رابطے جاری ہیں۔ قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے دوحہ میں ملاقات کی، جبکہ ایرانی مذاکرات کار بھی قطر کے دارالحکومت میں موجود ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق فی الحال ایران اور امریکی نمائندوں کے درمیان براہِ راست ملاقات یا مذاکرات کا کوئی پروگرام طے نہیں۔
Qatar’s PM Sheikh Mohammed bin Abdulrahman bin Jassim Al Thani has met US envoy Steve Witkoff and Jared Kushner in Doha over the US-Iran agreement, with Iranian negotiators also present but no direct talks planned.
🔴 Follow our LIVE coverage: https://t.co/fqSoDSxzLv pic.twitter.com/jROlBLFA18
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 1, 2026
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قطر ایک بار پھر خطے میں ثالثی کے اہم کردار کے طور پر سرگرم ہے اور مختلف فریقوں کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق علاقائی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کرے گا جب تک لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں ختم نہیں ہوتیں، امریکا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم نہیں کرتا اور ایرانی اثاثوں کی منجمد رقوم جاری نہیں کی جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کی امریکا ایران معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف
قالیباف کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے کے لیے پہلے اعتماد سازی کے عملی اقدامات ضروری ہیں، جن میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور مالی وسائل تک ایران کی رسائی شامل ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک اور جنگجو کو ہلاک کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان کے زاوثار اور فرون نامی علاقوں میں قائم ’پائلٹ زونز‘ سے اسرائیلی فوج کے انخلا میں تاخیر ہو گئی ہے، حالانکہ اس حوالے سے پہلے پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی۔
🔴 There is no high-level meeting between the US and Iran planned, Qatar’s Foreign Ministry Spokesperson Majed al-Ansari says
🔴 US envoys Jared Kushner and Steve Witkoff are in Doha and will meet mediators to discuss negotiations, he says
🔴 The spokesperson says Qatar is… pic.twitter.com/CR1FhOKs7H
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) June 30, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق دوحہ میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ علاقائی بحران کے حل کے لیے پس پردہ رابطے جاری ہیں، تاہم ایران کی جانب سے پیش کردہ سخت شرائط اور لبنان میں جاری کشیدگی کسی فوری پیشرفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ہیں۔














