انٹرنیٹ کے بانیوں میں شمار ہونے والے 83 سالہ ونٹ سرف آئندہ ہفتے گوگل میں اپنی 20 سال سے زائد خدمات کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔
ان کی ریٹائرمنٹ کا اعلان گوگل کی جانب سے نہیں بلکہ ایک کانفرنس کے دوران سامنے آیا، جہاں بتایا گیا کہ ونٹ سرف ایک ہفتے بعد اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے 200 ملازمین کو فارغ کردیا، اتنے بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی وجہ کیا بنی؟
ونٹ سرف 2005 میں گوگل میں شامل ہوئے تھے، تاہم انہیں سب سے زیادہ شہرت 1970 کی دہائی میں رابرٹ کاہن کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ کے بنیادی مواصلاتی نظام کی تیاری پر ملی، جس نے جدید انٹرنیٹ کی بنیاد رکھی۔
اس تاریخی خدمات کے اعتراف میں انہیں امریکا کا صدارتی تمغہ آزادی اور کمپیوٹنگ کے شعبے کا اعلیٰ ترین اعزاز سمیت متعدد عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
کانفرنس کے دوران ونٹ سرف نے مصنوعی ذہانت پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے درمیان رابطے کے لیے عام انسانی زبان کے بجائے مخصوص تکنیکی اصولوں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ عام زبان پیچیدہ اور حساس معاملات میں مطلوبہ حد تک درست نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے ریموٹ ورک پالیسی سخت کردی، ملازمین کے لیے نئی شرائط عائد
انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک پیغام بار بار ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچنے پر تبدیل ہو جاتا ہے، اسی طرح مصنوعی ذہانت کے نظام بھی صرف عام زبان پر انحصار کریں گے تو غلطیوں کا امکان بڑھ جائے گا، اس لیے واضح اور باقاعدہ تکنیکی اصول ناگزیر ہوں گے۔
تقریب کے اختتام پر منتظم نے ونٹ سرف کو اپنے زمانۂ طالب علمی کا بہترین لباس پہننے والا کمپیوٹر سائنس دان قرار دیا، جس پر ونٹ سرف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ باوقار لباس پہننا پسند کرتے تھے تاکہ ہجوم میں نمایاں نظر آئیں۔












