امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کا باب بند کرنا چاہتے ہیں، تاہم حالیہ میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے جنگ بندی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کو اب ایسے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے جہاں نہ فوجی دباؤ مکمل کامیابی دلا سکتا ہے اور نہ ہی سفارتی راستہ فوری امن کی ضمانت بن رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے نے جنگ بندی کو کمزور کر دیا ہے اور خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔
Trump wants to leave the Iran war behind. That won't happen soon – https://t.co/IiF4aFdH6r
— Reuters Iran (@ReutersIran) July 9, 2026
امریکی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عبوری معاہدے کو ختم قرار دیتے ہوئے نئے فضائی حملوں کا حکم دیا، جس کے بعد ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے ایرانی اہداف پر بمباری کے ردعمل میں سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق 17 جون کو ہونے والے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود 3 ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی دونوں ممالک مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اب محدود اور پیچیدہ آپشنز رہ گئے ہیں، کیونکہ شدید فوجی کارروائی دوبارہ مکمل جنگ کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ پسپائی اختیار کرنا ایران کو مزید مضبوط پیغام دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا دیا، یومیہ سپلائی میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی خواہش ہے کہ فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ اس کے جوہری پروگرام پر سخت شرائط منوائی جا سکیں، تاہم اس بات کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں کہ تہران اپنی بنیادی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی پر آمادہ ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو اندرونِ ملک بھی شدید سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ جنگ کے باعث ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور امریکی عوام میں جنگ کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے، جس سے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز تنازعے کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران اس آبی گزرگاہ میں مستقبل میں کردار کا خواہاں ہے، جبکہ امریکہ اور خلیجی اتحادی آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت پر زور دے رہے ہیں۔
امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف تو شاید نہ جائے، لیکن آئندہ عرصے میں محدود فوجی کارروائیاں، وقفے وقفے سے کشیدگی اور غیر یقینی سفارتی مذاکرات ہی خطے کا نیا معمول بن سکتے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا حصول مزید دشوار دکھائی دیتا ہے۔














