اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) اور روس کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز کے اشتراک سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے ویبینار میں پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور علاقائی روابط کو وسعت دینے کے لیے متعدد عملی سفارشات پیش کی گئیں۔
مقررین نے زور دیا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال، یوریشیائی روابط کی بڑھتی اہمیت اور پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے۔
اسلام آباد میں 9 جولائی 2026 کو انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) اور روس کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز کے اشتراک سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے ویبینار میں وزرا، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں نے پاکستان اور روس کے درمیان بہتر ہوتے سیاسی تعلقات کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک روس سیکیورٹی مشاورتی اجلاس، علاقائی امن و تعاون پر گفتگو
شرکا کا کہنا تھا کہ عالمی جغرافیائی سیاست میں تبدیلی، اقتصادی پابندیوں، سپلائی چین کے مسائل، یوریشیائی روابط کی بڑھتی اہمیت، پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع اور روس کی مشرقی اقتصادی حکمت عملی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے علامتی اقدامات کے بجائے عملی اور تجارتی بنیادوں پر منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ویبینار میں سفارش کی گئی کہ پاکستان اور روس کے درمیان بین الحکومتی کمیشن کو مزید مؤثر بنایا جائے اور توانائی، تجارت، ٹرانسپورٹ، زراعت، تعلیم، ڈیجیٹل معیشت اور مالیاتی شعبوں کے لیے الگ الگ عملدرآمد گروپس قائم کیے جائیں، جو سالانہ اہداف اور سہ ماہی جائزہ نظام کے تحت کام کریں۔

ماہرین نے دونوں ممالک کے لیے پانچ سے دس سالہ جامع اقتصادی روڈ میپ تیار کرنے، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی روابط کو مربوط انداز میں فروغ دینے کی تجویز دی۔ اس کے ساتھ پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان مستقبل کے اقتصادی تعاون کے لیے مذاکراتی حکمت عملی، شعبہ وار مطالعات اور ترجیحی تجارتی مصنوعات کی نشاندہی پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان بارٹر ٹریڈ (اشیا کے تبادلے پر مبنی تجارت) کو دوبارہ فعال کرنے، مقامی کرنسی میں ادائیگی، متبادل بینکاری چینلز، تجارتی مالیاتی سہولتوں اور ادائیگی کے مستقل نظام کے قیام کی سفارش بھی کی گئی تاکہ دوطرفہ تجارت کو عالمی مالیاتی رکاوٹوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک روس کی مختلف ٹیکنالوجیز سمیت مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال پر مشاورت
شرکا نے پاکستان، واخان، تاجکستان اور روس کو ملانے والے مجوزہ ’میر ٹریڈ روٹ‘ کا تفصیلی جائزہ لینے اور اسے وسیع یوریشیائی تجارتی راہداری کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ ریلوے رابطوں، شاہراہوں، ڈرائی پورٹس، ملٹی موڈل لاجسٹکس، کولڈ چین، گرین ٹرمینلز، کنٹینر سروسز، بانڈڈ ویئرہاؤسنگ، فلیکس ٹینک سہولت، کسٹمز کی ڈیجیٹلائزیشن اور کارگو ٹریکنگ کے نظام کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی۔
ویبینار میں کہا گیا کہ گوادر اور کراچی بندرگاہوں کو وسطی ایشیا اور روس کے لیے جنوبی لاجسٹکس گیٹ وے کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے، جس سے پاکستان خطے میں تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں تیل اور گیس کے علاوہ ایل این جی، ریفائننگ، بجلی کی ترسیل، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، قابلِ تجدید توانائی، انجینئرنگ تعاون اور توانائی کی بچت سے متعلق منصوبوں پر مشترکہ کام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں اناج، خوردنی تیل، کھاد، ویٹرنری مصنوعات، آبپاشی نظام، زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ، حلال اور سینیٹری و فائٹو سینیٹری (SPS) معیارات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ ریلوے انجینئرنگ، کان کنی، اسٹیل، بھاری مشینری، پیکجنگ، ریفریجریشن اور ایگرو پروسیسنگ میں مشترکہ صنعتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ویبینار میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے، ہر منصوبے کے لیے فوکل پرسن، ٹائم لائن، سرمایہ کاری تجاویز اور متعلقہ کمپنیوں کی فہرست تیار کی جائے۔
شرکا نے سفارش کی کہ پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) بزنس کونسل کی چیئرمین شپ کو زرعی لاجسٹکس، ڈیجیٹل دستاویزات، معیار سازی، غذائی تحفظ، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے عملی فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک روس دو طرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ
ویبینار میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ای گورننس اور آئی ٹی خدمات میں شراکت داری بڑھانے، روسی زبان کی پیشہ ورانہ تربیت، روسی جامعات کے ساتھ مشترکہ تحقیقی مراکز، ڈوئل ڈگری پروگرام، طلبہ کے تبادلوں، اسکالرشپس، سابق طلبہ کے نیٹ ورک، تھنک ٹینکس، ثقافتی روابط، صوبائی حکومتوں، چیمبرز آف کامرس اور صنعتی مراکز کے درمیان تعاون بڑھانے کی بھی سفارش کی گئی۔
شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، سرٹیفکیشن، کسٹمز، دستاویزی تقاضوں، انشورنس، تنازعات کے حل اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کیے بغیر نجی شعبے کی مؤثر شمولیت ممکن نہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں استحکام اور پورے یوریشیائی خطے میں امن و سلامتی بہتر ہونے سے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔














