اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی امدادی فنڈز میں شدید کٹوتیوں کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 10 لاکھ خواتین اور بچیاں زندگی بچانے والی امداد سے محروم ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق امدادی فنڈنگ میں ریکارڈ کمی کے بعد خواتین کی مدد کرنے والی تقریباً 90 فیصد تنظیمیں بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ جنوری 2025 سے امداد کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان: لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے رواں سال بیرونی امداد کے اربوں ڈالر کم کر دیے، جبکہ مالی دباؤ اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے باعث دیگر بڑے عطیہ دہندگان نے بھی اپنے امدادی بجٹ محدود کر دیے۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 12 کروڑ خواتین اور بچیاں انسانی امداد اور تحفظ کی محتاج ہیں۔ افغانستان، جمہوریہ کانگو اور ہیٹی سمیت مختلف ممالک میں سروے کی گئی 855 خواتین تنظیموں میں سے 40 فیصد کو فنڈز کی شدید کمی کے باعث آئندہ ایک سال میں عارضی یا مستقل طور پر بند ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ کے مطابق 60 فیصد تنظیموں نے بتایا کہ وہ جنوری 2025 کے مقابلے میں اب کم خواتین اور بچیوں تک خدمات پہنچا رہی ہیں، حالانکہ ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی انسانی امدادی کارروائیوں کی سربراہ صوفیہ کالٹرپ کا کہنا ہے کہ خواتین کی تنظیموں کے فنڈز میں کی جانے والی ہر کٹوتی دراصل جنگی جنسی تشدد کا شکار خواتین، بے گھر ماؤں، تعلیم سے محروم بچیوں اور مشکلات میں گھرے خاندانوں سے مدد چھیننے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسم فروشی نہیں خریداری کو جرم قرار دیا جائے، اقوام متحدہ کی اطلاع کار کا مطالبہ
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 65 فیصد خواتین تنظیموں کا عملہ بغیر تنخواہ خدمات انجام دے رہا ہے تاکہ امدادی سرگرمیاں جاری رہ سکیں، جبکہ نصف تنظیموں نے انتظار کی فہرستیں بنا دی ہیں یا وسائل کی کمی کے باعث ضرورت مند خواتین اور بچیوں کو واپس بھیجنے پر مجبور ہیں۔ تین چوتھائی سے زائد تنظیموں نے اپنے عملے میں بھی کمی کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال جنگی حالات میں جنسی تشدد کے واقعات دوگنا ہونے کے باوجود 62 فیصد تنظیموں نے بتایا کہ فنڈز کی کمی کے باعث خواتین کے لیے محفوظ مراکز اور صنفی تشدد سے متعلق معاونتی خدمات محدود یا بند ہو چکی ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ امدادی فنڈز میں کمی خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے لیے جاری عالمی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ متعدد تنظیمیں خواتین کی قیادت اور مساوی حقوق کے فروغ کے منصوبے معطل کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔













