امریکی خلائی ادارے ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے پاس ایسے نامعلوم فضائی اجسام (یو ایف اوز) کی اعلیٰ معیار کی تصاویر موجود ہیں جن کی حقیقت اب تک واضح نہیں ہو سکی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تصاویر کو ماورائے زمین مخلوق (ایلینز) کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری تنصیب کے اوپر پراسرار شے، پینٹاگون نے یو ایف اوز سے متعلق نئی فائلیں جاری کر دیں
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ناسا نے ایسی تصاویر حاصل کی ہیں جن میں نظر آنے والی کچھ اشیا کے بارے میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ دراصل کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کا حقیقی امکان موجود ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ کائنات میں زندگی صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ دیگر مقامات پر بھی موجود ہو سکتی ہے۔
ناسا کے سربراہ نے واضح کیا کہ فی الحال ادارے کے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ یہ نامعلوم اجسام ماورائے زمین مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا کسی خلائی تہذیب سے رابطہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ناسا کی جانب سے کچھ ایسی تصاویر عوام کے لیے بھی جاری کی جا چکی ہیں جن میں نامعلوم اشیا دکھائی دیتی ہیں تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ کسی تباہ شدہ خلائی جہاز یا ایلین مخلوق سے متعلق ہیں۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری

واضح رہے کہ ناسا اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر کہہ چکا ہے کہ اب تک اسے ایسی کوئی قابل اعتماد شہادت نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ نامعلوم فضائی مظاہر کا تعلق ماورائے زمین مخلوق سے ہے۔
اسی تناظر میں 2023 میں ناسا کے ماہرین کے ایک سائنسی پینل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پیز) کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید معیاری اور جامع معلومات درکار ہیں، کیونکہ موجودہ شواہد کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے کافی نہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس بیان کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئیں۔ کئی افراد نے نشاندہی کی کہ کسی شے کا نامعلوم ہونا لازمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ ماورائے زمین مخلوق سے تعلق رکھتی ہے جبکہ بعض صارفین نے کہا کہ غیرمعمولی دعووں کے لیے غیرمعمولی شواہد بھی ضروری ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
جیرڈ آئزک مین نے گفتگو کے دوران یہ اشارہ بھی دیا کہ ناسا کے پاس مریخ پر زندگی سے متعلق کچھ شواہد موجود ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جس کے باعث اس دعوے کی نوعیت اور سائنسی حیثیت فی الحال واضح نہیں ہے۔














