سعودی عرب: عسیر میں پائیدار کافی کی کاشت کا بڑا منصوبہ، 2028 تک 10 لاکھ نئے درخت لگانے کا ہدف

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب نے اپنی روایتی کافی کی عالمی شہرت میں اضافے کے ساتھ اس کی پائیدار پیداوار کو بھی ترجیح دیتے ہوئے عسیر ریجن میں 2028 تک 10 لاکھ نئے کافی کے درخت لگانے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ماحول کا تحفظ، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ، دیہی معیشت کو مضبوط بنانا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کا جنوبی پہاڑی علاقہ عسیر روایتی سعودی کافی کی پیداوار کا اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں حکومت کافی کی صنعت کو ماحول دوست بنیادوں پر فروغ دے رہی ہے۔ حکام نے 2026 سے 2028 کے دوران عسیر میں 10 لاکھ نئے کافی کے درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل 2022 سے 2025 کے درمیان 6 لاکھ 34 ہزار سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عسیر کا منفرد جغرافیہ، بلند پہاڑ، موسمی بارشیں، مسلسل دھند اور زرخیز مٹی یہاں کی کافی کو منفرد ذائقہ عطا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سعودی کافی عالمی مارکیٹ میں اپنی شناخت بنا رہی ہے۔ اس وقت عسیر میں سالانہ تقریباً 1,500 ٹن کافی چیری اور 500 ٹن گرین کافی بینز پیدا کیے جاتے ہیں۔

عسیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماحولیاتی مطالعات کے سربراہ فواز الشہرانی نے بتایا کہ اس منصوبے میں سرکاری ادارے، تحقیقی مراکز، کسانوں کی تنظیمیں اور دیگر شراکت دار مل کر کام کر رہے ہیں۔ کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، بہتر کٹائی، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ کافی کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور انہیں نئی منڈیاں بھی میسر آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں طبی ماہرین کا بڑا کارنامہ، فلپائنی جڑواں بچیوں کی کامیاب علیحدگی

کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے کنگ فہد میڈیکل ریسرچ سینٹر سے وابستہ محققہ عائشہ الغامدی نے کہا کہ مقامی نسل کے کافی کے پودوں کا تحفظ، متوازن آبپاشی، نامیاتی کھادوں کا استعمال اور صرف پکی ہوئی کافی چیری کی برداشت اعلیٰ معیار کی پیداوار کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ڈرِپ اریگیشن کو فروغ دینے، پہاڑی سیڑھی نما کھیتوں کی بحالی اور کیمیائی ادویات کے کم استعمال سے نہ صرف پانی کی بچت ہوگی بلکہ مٹی کی زرخیزی بھی برقرار رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق کافی کے باغات صحرائی پھیلاؤ کو روکنے، کاربن کے اخراج میں کمی، فضائی آلودگی کم کرنے اور جنگلی حیات، پرندوں اور شہد کی مکھیوں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عسیر کو زرعی اور دیہی سیاحت کا اہم مرکز بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کا ہدف

بیلجیم، گھر کی مرمت کے دوران دیوار سے 2 ارب 89 کروڑ کا سونا نکل آیا، اصل وارث کون؟، نئی بحث شروع

ایئر انڈیا پائلٹ کا بھنگ ٹیسٹ مثبت، کیا یہی طیارے کے اچانک نیچے آنے کی وجہ تھی؟

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مؤقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات

ویڈیو

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی