سعودی عرب میں سعودی کونجویئنٹ ٹوئنز پروگرام کی خصوصی طبی و جراحی ٹیم نے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے فلپائنی جڑواں بچیوں اولیویا اور جینا کی کامیاب علیحدگی کا آپریشن مکمل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پودے شدید گرمی میں فوٹوسنتھیسز کو کیسے محفوظ رکھتے ہیں؟ سعودی ماہرین کی اہم دریافت
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ پیچیدہ سرجری ریاض میں واقع کنگ عبداللہ اسپیشلائزڈ چلڈرن اسپتال، کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں تقریباً 6 گھنٹے تک جاری رہی۔
کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر اور سربراہ اور سعودی کونجویئنٹ ٹوئنز پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا کہ اللہ کے فضل اور طبی ٹیم کی مشترکہ کوششوں سے یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اس نازک آپریشن میں 22 کنسلٹنٹس، ماہرین، نرسنگ اور ٹیکنیکل اسٹاف نے حصہ لیا تاکہ ہر مرحلے پر اعلیٰ ترین معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر الربیعہ کے مطابق دونوں بچیاں سینے اور پیٹ کے حصے میں جڑی ہوئی تھیں اور ان کا جگر مشترکہ تھا جبکہ ممکنہ طور پر آنتوں کا کچھ حصہ بھی مشترک تھا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے، مانسہرہ کے شہریوں کی متفقہ رائے
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک بچی کو پیدائشی دل کے پیچیدہ مسائل بھی لاحق تھے جس سے آپریشن مزید حساس ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فلپائن سے جڑواں بچوں کی علیحدگی کا چوتھا کامیاب آپریشن ہے جبکہ مجموعی طور پر یہ سعودی کونجویئنٹ ٹوئنز پروگرام کے تحت 72 واں کامیاب کیس ہے۔ یہ پروگرام گزشتہ 35 برسوں سے 28 ممالک کے مریضوں کا علاج کر چکا ہے اور اب تک 158 کیسز کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔
ڈاکٹر الربیعہ نے اس کامیابی کو سعودی عرب کی انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی اور طبی شعبے میں ترقی کا مظہر قرار دیا جو وژن 2030 کے اہداف کے مطابق صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور معیارِ علاج کو بلند کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ’جازان‘ سیاحت کا نیا مرکز بننے لگا، ساحلی شاہراہ نے توجہ حاصل کر لی
بچوں کے اہلِ خانہ نے بھی سعودی قیادت اور طبی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔














