وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری جامعات میں تقرریوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کی اپیل منظور کرلی اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کی سفارشات اور یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے فیصلے کو بھی بحال کردیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی دائرہ اختیار صرف اس صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب کسی قانونی یا لازمی ضابطے کی واضح خلاف ورزی ثابت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
عدالت نے قرار دیا کہ محض جانب داری کے الزامات یا دعوؤں کی بنیاد پر انتخابی عمل کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے تقرریوں کے عمل کو غیر قانونی ثابت کیا جاسکے۔
عدالت کے مطابق سلیکشن بورڈ امیدواروں کی اہلیت، تعلیمی ریکارڈ اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا مجاز فورم ہے، لہٰذا واضح قانونی خرابی ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدلیہ ایسے انتظامی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
مزید پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ کامیاب امیدواروں کے خلاف کسی غیر قانونی عمل کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ہر ناکام امیدوار کے اعتراض پر عدالتی مداخلت کی جائے تو سرکاری جامعات کی خودمختاری متاثر ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ آئینی عدالتیں جامعات کے انتظامی فیصلوں کی اپیلٹ اتھارٹی نہیں بن سکتیں اور ہر سروس سے متعلق تنازع آئینی درخواست کے ذریعے قابلِ سماعت نہیں ہوتا۔














