بنگلہ دیشی حکام نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کے خاندان اور 10 کاروباری گروپوں سے منسلک تقریباً 6.2 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں 98 مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کے فنانشل انٹیلیجنس یونٹ نے بتایا ہے کہ شیخ حسینہ، ان کے اہل خانہ اور 10 کاروباری گروپوں سے منسلک مجموعی طور پر 760 ارب ٹکا (تقریباً 6.2 ارب امریکی ڈالر) مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔
Bangladesh has confiscated assets worth about six point two billion dollars linked to former Prime Minister Sheikh Hasina, her family and ten business groups as investigations into alleged financial wrongdoing continue.#Asiaone #asiaonenews #Bangladesh #SheikhHasina pic.twitter.com/Lyr0lQokIY
— ASIA ONE NEWS (@AsiaOne_News) July 15, 2026
ادارے کے سربراہ اختیار محمد مامون نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضبط کیے گئے اثاثوں میں سے 570 ارب ٹکا کے اثاثے بنگلہ دیش میں جبکہ 190 ارب ٹکا کے اثاثے بیرون ملک موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 98 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو امید ہے کہ سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیشرفت سامنے آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ملک سے فرار شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آ کر گرفتاری دینے کا اعلان
اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شیخ حسینہ بھارت چلی گئی تھیں، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔
Bangladesh seizes $8b in assets tied to ousted PM Hasina https://t.co/D5DPM3GLWu
— The Straits Times (@straits_times) July 15, 2026
اقتدار سے معزولی کے بعد بنگلہ دیش کی مختلف عدالتیں انہیں متعدد مقدمات میں غیر موجودگی میں سزا سنا چکی ہیں، جن میں ڈھاکہ کے پوش علاقے میں سرکاری پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ ایک عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ حکومت شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ ملک واپس آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اپیل سے متعلق فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔













