بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت عوامی لیگ کے سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ رواں سال دسمبر میں جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس جائیں گی اور عدالت میں رضاکارانہ طور پر پیش ہو کر خود کو قانون کے حوالے کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ملک سے فرار سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ بھارت میں پناہ لینے کے بعد پہلی بار اپنی وطن واپسی کا واضح ٹائم فریم دے رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے کسی غیرملکی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
بھارت کی جانب سے حوالگی کی ضرورت نہیں، میں خود واپس جاؤں گی
شیخ حسینہ نے کہا کہ ڈھاکا حکومت مسلسل بھارت کو خطوط لکھ کر ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے، تاہم انہیں واپس بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود بنگلہ دیش جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ مجھے واپس لانا چاہتے ہیں، لیکن میں خود ہی واپس جاؤں گی۔‘
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کئی بار بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر چکا ہے، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ اس حوالے سے پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے اور نئی بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہاں ہے۔
پارٹی رہنما بھی عدالت میں سرنڈر کریں گے
شیخ حسینہ نے بتایا کہ عوامی لیگ کے دیگر جلاوطن رہنما بھی ان کے ساتھ وطن واپس آکر عدالتوں میں رضاکارانہ طور پر پیش ہوں گے۔ ان رہنماؤں میں سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال بھی شامل ہیں، جنہیں بھی سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے تقریباً تمام رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ متعدد رہنما روپوش ہیں۔
عدالتی کارروائی سے حقیقت سامنے آ جائے گی
معزول وزیراعظم نے کہا کہ وہ عدالتی نظام پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے خیال میں جیسے ہی مقدمات کی کارروائی شروع ہوگی، عوام پر واضح ہو جائے گا کہ عدالتی کارروائی کس حد تک غیرحقیقی ہے۔ البتہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس تاریخ کو یا کس عدالت میں پیش ہوں گی۔
جیل جانے سے خوفزدہ نہیں
شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں قید ہونے کا کوئی خوف نہیں کیونکہ وہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ گرفتار ہو چکی ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1981 میں جلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی کے بعد فوجی حکومت کے خلاف تحریکوں کے دوران بھی انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا، جبکہ 2007 میں بدعنوانی کے مقدمات میں بھی جیل جانا پڑا، تاہم بعد میں وہ رہا ہوئیں اور 2008 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
جان کو خطرہ تھا، اس لیے ملک چھوڑا
انہوں نے کہا کہ اس بار انہیں اپنی جان کو سنگین خطرات لاحق تھے کیونکہ مشتعل ہجوم ان کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہا تھا، جس کے باعث انہیں ملک چھوڑنا پڑا۔
غلطیاں ہو سکتی ہیں، فیصلہ عوام کریں
شیخ حسینہ نے کہا کہ کوئی بھی حکومت طویل عرصہ اقتدار میں رہے تو اس سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف عوام کو ہے کہ حکومت نے اچھا کام کیا یا برا۔ انہوں نے کہا، ‘اگر عوامی لیگ نے غلط کام کیا ہے تو اس کا فیصلہ بھی عوام ہی کریں۔’
عوامی لیگ کی تنظیم نو جاری
سابق وزیراعظم نے بتایا کہ وہ جلاوطنی کے دوران آن لائن اجلاسوں کے ذریعے عوامی لیگ کو دوبارہ منظم کر رہی ہیں اور اب تک بنگلہ دیش کے 300 میں سے 125 پارلیمانی حلقوں کے نمائندوں سے رابطہ کر چکی ہیں۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے عدالتی فیصلوں کے باعث وہ خود آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں، تاہم اس کی بنیاد پر عوامی لیگ کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافے کا امکان
رائٹرز کے مطابق شیخ حسینہ کی ممکنہ وطن واپسی بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ موجودہ حکومت ملک میں استحکام کی کوشش کر رہی ہے۔
ادھر دوسری جانب اس پیش رفت سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بھی بہتری آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو شیخ حسینہ کو پناہ دینے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔














