شامی مہاجر خاندانوں کی مجبوری سے ٹک ٹاک کی کمائی، عطیات کا بڑا حصہ کمپنی لے جاتی رہی

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شام کے بے گھر خاندان ٹک ٹاک پر لائیو نشریات کے ذریعے مالی مدد کی اپیل کرتے رہے، مگر ناظرین کی جانب سے بھیجے گئے عطیات کا بڑا حصہ ٹک ٹاک اور اس سے وابستہ نظام کے پاس چلا جاتا تھا، جبکہ ضرورت مند خاندانوں کو انتہائی معمولی رقم ملتی تھی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بی بی سی کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ شمال مغربی شام کے مہاجر کیمپوں میں رہنے والے سینکڑوں خاندان روزانہ کئی کئی گھنٹے ٹک ٹاک پر لائیو آ کر مالی امداد کی اپیل کرتے تھے۔ ان نشریات میں بچے بھی شامل ہوتے تھے، جو ناظرین سے بار بار ’پلیز لائک، پلیز شیئر، پلیز گفٹ‘ کہہ کر ڈیجیٹل تحائف بھیجنے کی درخواست کرتے تھے۔ بعض لائیو نشریات میں ایک گھنٹے کے دوران ایک ہزار ڈالر تک کے تحائف موصول ہوتے تھے، مگر ان خاندانوں کو اس رقم کا صرف ایک معمولی حصہ ملتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کیمرے کے سامنے طلاق دینے کی ویڈیو وائرل، معروف ٹک ٹاکر پر سابق اہلیہ کے سنگین الزامات

تحقیق کے مطابق اس پورے نظام میں مقامی ’ٹک ٹاک مڈل مین‘ اہم کردار ادا کرتے تھے، جو مہاجر خاندانوں کو موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس فراہم کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چین اور مشرق وسطیٰ میں موجود ٹک ٹاک سے وابستہ ایجنسیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، جو نئے لائیو اسٹریمرز کو پلیٹ فارم پر لانے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ برطانوی سم کارڈ استعمال کیے جاتے تھے کیونکہ برطانیہ کے صارفین زیادہ فراخ دل سمجھے جاتے ہیں۔

بی بی سی نے 5 ماہ تک 30 ٹک ٹاک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا اور ایک تجربہ بھی کیا۔ لندن سے 106 ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل تحائف ایک آزمائشی اکاؤنٹ کو بھیجے گئے، مگر لائیو نشریات ختم ہونے پر اس اکاؤنٹ میں صرف 33 ڈالر باقی تھے، یعنی تقریباً 69 فیصد رقم کٹ چکی تھی۔ بعد ازاں مقامی منی ٹرانسفر فیس اور مڈل مین کا حصہ نکالنے کے بعد مہاجر خاندان کے پاس صرف 19 ڈالر بچے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے خاندان انتہائی غربت اور بے بسی کے باعث اس طریقۂ کار پر انحصار کرنے پر مجبور تھے۔ مثال کے طور پر ایک خاتون، مونا علی الکریم، اپنے شوہر کی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد اپنی نابینا بیٹی کے علاج کے لیے روزانہ لائیو آ کر مدد مانگتی تھیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے بعد ٹک ٹاک نے کہا کہ پلیٹ فارم پر استیصالی انداز میں بھیک مانگنے کی اجازت نہیں ہے اور ایسے مواد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل تحائف پر اس کا کمیشن 70 فیصد سے کم ہے، تاہم اس نے درست شرح بتانے سے گریز کیا۔ بی بی سی کی نشاندہی کے بعد کمپنی نے ان تمام اکاؤنٹس کو بند کر دیا، جبکہ مقامی فلاحی اداروں نے متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور بچوں کی تعلیم میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں، اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے لیے خوفناک ترین منصوبہ

لنکا پریمیئر لیگ سے قبل بڑا ایکشن، میچ فکسنگ کے شبہے میں بھارتی مالک گرفتار

فیفا ورلڈ کے فاتحین کو پہلی بار امریکی طرز کی انگوٹھیاں دی جائیں گی

تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون