افغانستان: 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی شرائط مان لیں

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 افغانستان میں کام کرنے والے 75 فیصد امدادی اداروں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی عائد کردہ شرائط قبول کر لی ہیں، جن میں خواتین کے لیے محرم (مرد سرپرست) کے ساتھ سفر اور مرد و خواتین کے لیے الگ الگ دفاتر کی شرط بھی شامل ہے۔

یہ انکشاف جینڈر اِن ہیومینیٹیرین ایکشن ورکنگ گروپ اور ہیومینیٹیرین ایکسیس ورکنگ گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نئے سروے میں سامنے آیا، جس میں افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں کام کرنے والے 122 امدادی اداروں سے حاصل کردہ معلومات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی پابندیوں، بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور خواتین کی ملازمت پر عائد سخت شرائط نے امدادی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ 56 فیصد اداروں نے فنڈنگ میں کمی کے باعث افغان خواتین ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جبکہ 46 فیصد اداروں نے کہا کہ خواتین اب پہلے کی طرح دفاتر میں آ کر کام نہیں کر سکتیں۔

یہ بھی پڑھیے افغان طالبان حکومت کے خواتین مخالف 80 حکم نامے جاری؟

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پابندیاں ہرات میں دیکھی گئیں، جہاں 36 فیصد اداروں نے سخت رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد کابل (31 فیصد)، ننگرہار (22 فیصد)، قندھار (20 فیصد) اور کنڑ (17 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ 45 فیصد امدادی ادارے اب بھی مرد اور خواتین دونوں عملے کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ 16 فیصد خواتین ملازمین طالبان کی پابندیوں کے باعث گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 61 فیصد اداروں نے بتایا کہ خواتین ملازمین کو سرکاری یا امدادی کام کے سلسلے میں سفر کے دوران ایک مرد سرپرست (محرم) کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان: اربوں ڈالر امداد کے باوجود خواتین سمیت 4 کروڑ افراد سنگین صورتحال کا شکار، رپورٹ

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 49 فیصد اداروں کے مطابق خواتین ملازمین طالبان کی نقل و حرکت اور لباس سے متعلق پابندیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کا شکار ہیں۔ بعض اداروں نے یہ بھی بتایا کہ کام پر جاتے ہوئے خواتین کو طالبان کی ’وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے اہلکار روک کر پوچھ گچھ کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین پر عائد پابندیوں سے سب سے زیادہ تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں، جہاں خواتین کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے بھی خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی کے باعث افغانستان سمیت بحران زدہ ممالک میں خواتین کی معاونت کرنے والی کئی تنظیمیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر سمیت ناگالینڈ، آسام اور منی پور میں یوم سیاہ کی کال

علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘: کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیسے ہوگا؟

کون ہوگا آزاد کشمیر کا صدر اور کون بنے گا وزیراعظم؟ نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں آج اہم فیصلے متوقع

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی