سپریم کورٹ کی جانب سے ماضی میں تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق دیے گئے بعض سخت فیصلوں پر حالیہ قانونی نظرثانی اور عدالتی ریمارکس نے ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے۔ اگرچہ بہت سی عمارتیں پہلے ہی مسمار کی جا چکی ہیں، تاہم عدالت عظمیٰ کے حالیہ رجحانات اور فیصلوں کا بنیادی مقصد متاثرین کو معاوضہ دلوانا اور مستقبل میں حسنِ نیت سے جائیداد خریدنے والوں کا تحفظ کرنا ہے۔
اس فیصلے سے متاثرین کو کیا فائدہ مل سکتا ہے؟
اس حوالے سے قانونی ماہر خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ عدالت کے حالیہ نرم یا نظرثانی شدہ رویے سے متاثرین کو مالی معاوضے کی ادائیگی ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بلڈر یا سرکاری محکمے کی غلطی کی وجہ سے عمارت غیر قانونی بنی، تو اس کا خمیازہ خریدار کیوں بھگتے؟ بلڈرز اور ذمہ دار محکموں کی جائیدادیں ضبط کر کے متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دلوایا جا سکتا ہے۔
مستقبل میں مسماری پر روک تھام
خیر محمد خٹک کا مزید کہنا ہے کہ اس عدالتی رجحان سے ان عمارتوں کو تحفظ ملے گا جو فی الحال مسمار نہیں ہوئیں، لیکن ان پر قانونی تلوار لٹک رہی ہے۔ عدالت اب مسمار کرنے کے بجائے ریگولرائزیشن کو ترجیح دے رہی ہے۔ متاثرین عدالتوں سے رجوع کر کے ان سرکاری افسران اور بلڈرز کی جائیدادیں قرق کروانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جن کی بدعنوانی کی وجہ سے یہ عمارتیں غیر قانونی قرار پائیں اور لوگوں کی جمع پونجی ضائع ہوئی۔
متبادل اراضی یا چھت کی فراہمی
ماہر قانون عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ گجر نالے اور دیگر لیز شدہ بستیوں کے متاثرین کے لیے عدالت نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ انہیں متبادل رہائش یا پلاٹ فراہم کیے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرین ٹریبیونل میں جا کر اپنا مسئلہ پیش کر سکتے ہیں تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی 40 برس پرانے افغان بستی کے 80 فیصد گھر مسمار کردیے گئے
عثمان فاروق کے مطابق ماضی میں ‘پہلے مسمار کرو، بعد میں دیکھیں گے’ کی پالیسی نے شہریوں کے آئینی حق کو متاثر کیا۔ اب عدالت اس اصول پر کاربند ہے کہ اگر ریاست کے محکموں نے این او سی جاری کیا تھا، تو ریاست ہی نقصان کی ذمہ دار ہے۔ جن متاثرین کے پاس قانونی لیز یا کاغذات موجود تھے، وہ اب متعلقہ صوبائی حکومت یا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے جائیداد کی مالیت کے برابر نقد معاوضہ مانگنے کا حق رکھتے ہیں۔
ماہر قانون سیما بلال کا کہنا ہے کہ ایسے غیرقانونی منصوبوں کے لیے اصل ذمہ دار وہ سرکاری افسران اور ادارے ہیں جنہوں نے رشوت لے کر تعمیرات کو این او سی جاری کیے، لہٰذا عام شہریوں (جو خریدار تھے) کو سزا دینے کے بجائے اصل ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔
سپریم کورٹ اب یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ماضی کے بعض فیصلے ضرورت سے زیادہ سخت تھے، جن میں انسانی المیے کو نظرانداز کیا گیا۔ اب توجہ بلڈرز اور این او سی دینے والے افسران کے خلاف فوجداری کارروائی اور ان سے ریکوری کر کے متاثرین کو دینے پر رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نسلہ ٹاور کی زمین فروخت کرکے متاثرین کو رقم ادا کی جائے، سپریم کورٹ
ان کا مزید کہنا ہے کہ اسلام آباد اور کراچی کے لیے الگ الگ قوانین نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر اسلام آباد میں گرینڈ حیات یا بنی گالا کی تعمیرات کو جرمانے کے بعد قانونی کیا جا سکتا ہے، تو کراچی کے نسلہ ٹاور یا دیگر رہائشی منصوبوں کے خریداروں کو بھی وہی ریلیف ملنا چاہیے تھا۔
سیماء بلال کے مطابق عدالت کے اس حالیہ فیصلے سے ان تمام شہریوں کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ہاؤسنگ سیکٹر میں لگانے کے بعد ریاستی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے دربدر ہو گئے تھے۔













