مولانا فضل الرحمان فوج سے متعلق اپنے الفاظ واپس لیں اور قوم سے معافی مانگیں، سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے معروف ماہرِ معیشت اور سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے شہدا سے متعلق دیے گئے حالیہ بیان میں استعمال کیے گئے الفاظ کسی طور قابلِ قبول نہیں، اس معاملے پر وضاحتیں دینے کے بجائے مولانا فضل الرحمان کو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے الفاظ واپس لینے چاہییں اور قوم سے معذرت کرنی چاہیے، کیونکہ شہدا کا احترام پورے ملک کا متفقہ مؤقف ہے۔

وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ضیغم خان نے کہا کہ اس معاملے پر ردِعمل ضرور ہونا چاہیے، لیکن ردِعمل دیتے وقت مولانا فضل الرحمان کی پوری سیاسی زندگی، ان کی جدوجہد اور دہشتگردی کے خلاف ان کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

شہدا قوم کی سب سے مقدس علامت ہیں

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان کے ان چند سیاستدانوں میں شامل ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک ریاستی معاملات، قومی سلامتی اور دہشتگردی جیسے حساس موضوعات پر واضح مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا کی پاکستان سے وابستگی یا ریاست کے خلاف ہونے کا تاثر درست نہیں۔

ضیغم خان نے کہا کہ کسی بھی قوم کے لیے شہدا سے زیادہ مقدس کوئی چیز نہیں ہوتی، کیونکہ ایک انسان اپنی جان سے بڑھ کر کوئی قربانی نہیں دے سکتا۔ ان کے مطابق جو لوگ سرحدوں پر، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں یا ملکی سلامتی کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، ان کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی رہنما سے اس حوالے سے کوئی نامناسب جملہ ادا ہو جائے تو اس پر وضاحتیں دینے کے بجائے معذرت کرنا زیادہ مناسب رویہ ہے۔

دہشتگردی کے خلاف مولانا کا کردار

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو دہشتگردوں کا حمایتی قرار دینا حقائق کے منافی ہوگا، کیونکہ ان کی پوری سیاسی اور مذہبی جدوجہد اس کے برعکس رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ مولانا نے مذہبی سطح پر ہمیشہ دہشتگردی کی مخالفت کی اور واضح کیا کہ ریاست کی اجازت کے بغیر مسلح کارروائی، نجی جہاد اور خودکش حملے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق اسی مؤقف نے دہشتگرد تنظیموں کے نظریاتی بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا اور انہیں مذہبی جواز حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعیت علمائے اسلام بھی دہشتگردی سے متاثر ہوئی

ضیغم خان نے مزید کہا کہ صرف فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہی دہشتگردی کے خلاف قربانیاں نہیں دیں بلکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی خود دہشتگردی سے شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کے متعدد رہنما، علما اور کارکن دہشتگرد حملوں میں شہید ہوئے۔

مولانا حسن جان سمیت کئی معروف مذہبی شخصیات دہشتگردوں کے نشانے پر رہیں، جبکہ خود مولانا فضل الرحمان بھی مختلف مواقع پر حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے سینکڑوں کارکنوں نے بھی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

پھر ایسا بیان کیوں آیا؟

اس سوال پر کہ مولانا فضل الرحمان سے ایسا بیان کیوں آیا، ضیغم خان نے کہا کہ اس کا جواب سیاسی حالات میں تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ موجودہ سیاسی دباؤ، مایوسی اور بدلتے ہوئے حالات نے اس بیان پر اثر ڈالا ہو۔

انہوں نے کہا کہ مولانا ایک طرف دہشتگرد تنظیموں کے نشانے پر رہے، دوسری طرف انہیں ملکی سیاست میں بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بعض مواقع پر انہیں یہ احساس بھی رہا کہ ان کے سیاسی کردار کو وہ اہمیت نہیں ملی جس کے وہ خود کو مستحق سمجھتے تھے۔

پی ڈی ایم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال

ضیغم خان نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال نے بھی مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر اثر ڈالا۔ ان کے مطابق بعض اوقات سیاسی مایوسی رہنماؤں کے بیانات میں بھی جھلکنے لگتی ہے، تاہم اس کے باوجود شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ضیغم خان نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تحریک انصاف تک

کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار ضیغم خان نے کہا کہ پاکستان میں مختلف ادوار میں کئی عوامی تحریکیں ابھرتی رہی ہیں، لیکن ہر تحریک کو ایک مرحلے پر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا وہ ہمیشہ احتجاجی سیاست کا حصہ رہنا چاہتی ہے یا پھر ریاستی نظام کے اندر رہ کر اپنی سیاست آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی تحریک کو صرف احتجاج کے تناظر میں نہیں بلکہ سیاسی سماجیات کے اصولوں کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں جب کوئی تحریک عوامی مقبولیت حاصل کرتی ہے تو ریاست اور نظام آہستہ آہستہ اسے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ اس مرحلے کے بعد اس تحریک سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مکمل طور پر احتجاجی رویہ ترک کرکے سیاسی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

احتجاج اور تشدد میں فرق

ضیغم خان نے کہا کہ احتجاج ہر شہری اور ہر جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج اور تشدد میں واضح فرق موجود ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومت سے مطالبات کرنا ہر شہری کا حق ہے، مگر یہ کہنا کہ تمام مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر ریاست کو مفلوج کر دیا جائے گا، یہ رویہ کسی جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد مختلف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ عراق جنگ کے دوران بھی مغربی ممالک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے، مگر حکومتوں نے اپنے فیصلے احتجاج کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیے۔ عوام نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور حکومتوں نے اپنے آئینی اختیارات کے مطابق فیصلے کیے۔

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کیا کرنا چاہیے؟

ضیغم خان کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احتجاج دباؤ، تشدد یا ریاست کو بلیک میل کرنے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی موجودہ صورتحال میں اپنے احتجاجی طریقۂ کار پر نظرثانی کرنی چاہیے اور طاقت کے ذریعے مطالبات منوانے کے بجائے مذاکرات، سیاسی عمل اور جمہوری راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

حکومت بھی مکمل پیچھے نہیں ہٹ سکتی

انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کے لیے بھی مکمل طور پر پیچھے ہٹنا آسان نہیں، کیونکہ اگر ریاست ایک خاص مرحلے کے بعد دباؤ میں آ کر فیصلہ کرتی ہے تو اس سے ریاستی رٹ متاثر ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے موجودہ حالات میں دونوں فریقوں کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان ثالثی کرسکتے ہیں

ضیغم خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس معاملے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی وہ مختلف سیاسی اور قومی معاملات میں ثالثی کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا کی مختلف سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ روابط موجود ہیں، اس لیے اگر حکومت انہیں باقاعدہ کردار دے تو وہ کشیدگی کم کرانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان پہلے ہی کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو احتجاج ختم کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی مذاکرات پر زور دیا جارہا ہے۔

مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائے بغیر عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں

ضیغم خان نے گفتگو کے آخری حصے میں کہا کہ عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اختیارات اور وسائل چند بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہیں، جس کے باعث دور دراز علاقوں کے عوام بنیادی سہولیات کے لیے بھی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ضلعی سطح پر مضبوط مقامی حکومتیں قائم ہوں اور انہیں مالی و انتظامی اختیارات دیے جائیں تو عوام کے بیشتر مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاست

علاقائی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے ضیغم خان نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کو ان کے تاریخی اور آئینی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں ماضی میں کیے گئے آئینی اقدامات کا سیاسی فائدہ ملتا رہا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی مختلف سیاسی عوامل نتائج پر اثرانداز ہوں گے۔

پیپلز پارٹی اور پنجاب کا چیلنج

پیپلز پارٹی کی قومی سیاست میں واپسی کے سوال پر ضیغم خان نے کہا کہ اگرچہ جماعت مختلف علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے، تاہم پنجاب میں اسے دوبارہ اپنی عوامی حمایت ثابت کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کو اب عملی سیاست میں اپنی عوامی مقبولیت اور قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت دینا ہوگا کیونکہ صرف خاندانی سیاسی وراثت کافی نہیں ہوتی۔

مریم نواز کو بھی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی

انہوں نے مریم نواز کے حوالے سے بھی کہا کہ انہیں اپنی انتظامی صلاحیتوں کو مزید ثابت کرنا ہوگا۔ ضیغم خان کے مطابق پنجاب میں صفائی اور امن و امان جیسے بعض شعبوں میں بہتری نظر آتی ہے، تاہم کسانوں سے متعلق پالیسیوں میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے عوام آئندہ انتخابات میں مجموعی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔

ایران، آبنائے ہرمز اور عالمی خطرات

خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ضیغم خان نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کے حالیہ اقدامات کو تشویش کا باعث قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر بین الاقوامی بحری راستوں پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو تحمل اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا کردار

ضیغم خان نے کہا کہ پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور دیگر بااثر مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ ایران امریکا کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اگر تنازع مزید بڑھا تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو معاشی اور سیاسی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کے مفاد میں یہی ہے کہ مسائل کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

پاکستان کو کس سمت جانا ہوگا؟

انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کو اندرونی استحکام، جمہوری عمل کے تسلسل، مضبوط مقامی حکومتوں، شفاف انتخابات اور متوازن خارجہ پالیسی پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ملک داخلی اور خارجی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp