کیا ایم کیو ایم کی اعلی قیادت کراچی کے میئر شپ کے خواب دیکھ رہی ہے؟

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے جاری شدید اختلافات اب کھل کر پبلک پریس کانفرنسز اور بیانات کی شکل میں سامنے آ چکے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور وسیم اختر جیسے سینیئر رہنما تنظیم پر گرفت، انٹرا پارٹی انتخابات اور مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں، جس نے بہادر آباد مرکز کو ایک بار پھر سیاسی گولا باری کا میدان بنا دیا ہے۔

بحران کا پسِ منظر اور لفظی جنگ کی شدت

بظاہر حالیہ تنازع کی بنیادی وجہ انٹرا پارٹی الیکشن، پارٹی چیئرمین شپ کی مدت، اور تنظیمی عہدوں کی بندر بانٹ ہے، اس حوالے سے مصطفیٰ کمال نے پارٹی کی موجودہ فیصلہ سازی کے عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضع الفاظ میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت اور ماضی کے فیصلوں پر براہِ راست سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب، پارٹی کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ان کے قریبی حلقے مصطفیٰ کمال کے ان بیانات کو تنظیمی ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پارٹی فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں اور کسی کو بھی نظم و ضبط کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ڈاکٹر فاروق ستار، جو ماضی میں خود ایم کیو ایم بحالی کمیٹی چلا رہے تھے، اس وقت بیچ بچاؤ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم ان کا جھکاؤ بھی تنظیمی ڈھانچے میں سینیئر رہنماؤں کو دیوار سے لگانے کے خلاف دکھائی دیتا ہے اور وہ عوامی سطح پر بیان بازی کے بجائے باہمی بات چیت پر زور دے رہے ہیں۔

سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی موجودہ تنظیمی سیٹ اپ اور فیصلوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ بہادر آباد مرکز پر کارکنوں کے حالیہ احتجاج اور تلخ کلامی کے واقعات میں بھی ان کی اور دیگر رہنماؤں کی اندرونی سرد جنگ کے اثرات نمایاں نظر آئے۔

ایم کیو ایم کے قریبی ذریعہ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ظاہر ہے جس کے ہاتھ میں پارٹی کی قیادت ہوگی وہ مستقبل میں فیصلے آسانی سے لے سکتا ہے جیسے کہ میئر کراچی کس کو بنانا ہے۔

اس ذریعہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو گورنر سندھ کا منصب جانے کے بعد انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگلا میئر انہی کی جماعت کا ہوگا، میئر کراچی کون نہیں بننا چاہے گا، اس دوڑ میں خود مصطفیٰ کمال، وسیم اختر اور فاروق ستار جیسے نام تو شامل ہیں، لیکن ان سب بڑی مچھلیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہی وقت ہے کارکنان کی طاقت سے ایم کیو ایم پاکستان کی ڈوریں اپنے ہاتھ میں لی جائیں تا کہ مستقبل میں فیصلہ لینے میں آسانی ہو۔

سینیئر صحافی محمد فاروق سمیع کے مطابق بظاہر یہ لڑائی ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین شپ کے لیے نظر آتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ جب پی ایس پی ایم کیو ایم پاکستان میں ضم ہوئی تو اس کے بعد ایم کیو ایم کا یہ دھڑا متحرک رہا اور اس دھڑے کی مضبوطی کا اندازہ اس کے کارکنان کی بڑی تعداد ہے۔

محمد فاروق سمیع کے مطابق جس وقت مصطفیٰ کمال گروپ کو یہ احساس ہونے لگا کہ وہ متحرک بھی ہیں اور کارکنان بھی ان کے ساتھ ہیں تو تب انٹرا پارٹی انتخابات کی آواز بلند ہونے لگی جبکہ دوسری جانب خالد مقبول صدیقی انتخابات کو مختلف بہانوں سے مؤخر کرتے رہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات پارٹی اجلاسوں سے شروع ہوئے اور بات عوام تک تب آئی جب پارٹی کے بند کمروں میں ہونے والے اجلاسوں کی بات میڈیا تک پہنچنا شروع ہوئی، اب یہ جنگ شدت اختیار کرچکی ہے اور اس میں مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی کے بعد وسیم اختر اور وسیم آفتاب بھی اب متحرک نظر آرہے ہیں۔

مفادات کا عارضی اتحاد زیادہ دیر نہ چل سکا

کراچی اور سندھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار فیض اللہ خان کا کہنا ہے کہ جنوری 2023 میں پاک سرزمین پارٹی اور فاروق ستار گروپ کا ایم کیو ایم پاکستان میں انضمام صرف ایک انتخابی ضرورت اور عارضی بندوبست تھا۔ رہنماؤں کے دل کبھی صاف نہیں ہوئے تھے۔ اب جب کہ عام انتخابات گزر چکے ہیں اور اقتدار کی شراکت کا وقت آیا ہے، تو ہر دھڑا زیادہ سے زیادہ حصہ اور تنظیمی کنٹرول چاہتا ہے۔

فیض اللہ خان کا مزید کہنا ہے کہ کراچی کا ووٹر پہلے ہی سیاسی طور پر منقسم ہے۔ قیادت کی اس سرِعام لفظی گولا باری سے ہجرت کرنے والوں کے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ جب گلی محلوں کا کارکن اپنے قائدین کو ٹی وی پر ایک دوسرے پر الزامات لگاتے دیکھتا ہے تو وہ مایوس ہو کر متبادل سیاسی قوتوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لنکا پریمیئر لیگ سے قبل بڑا ایکشن، میچ فکسنگ کے شبہے میں بھارتی مالک گرفتار

فیفا ورلڈ کے فاتحین کو پہلی بار امریکی طرز کی انگوٹھیاں دی جائیں گی

تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر

3 بڑے امریکی ٹی وی چینلز نے ٹرمپ کا خطاب براہِ راست نشر کرنے سے انکار کر دیا

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون