پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام برآمدات مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم یہ شعبہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 5 ارب ڈالر کے ہدف کو حاصل نہ کر سکا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 میں آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات سے حاصل ہونے والی ترسیلات 3.814 ارب ڈالر تھیں، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر ہو گئیں۔
اس طرح سالانہ بنیاد پر اس شعبے کی برآمدات میں تقریباً 20.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ، نیا ریکارڈ قائم
مالی سال کے اختتام پر بھی شعبے کی کارکردگی مضبوط رہی۔ جون 2026 میں آئی ٹی برآمدات 416 ملین ڈالر رہیں، جو مئی 2026 کے 373 ملین ڈالر اور جون 2025 کے 339 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ اس سے ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
اس سے قبل اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں ریکارڈ 423 ملین ڈالر کی برآمدات کے بعد مئی میں یہ حجم کم ہو کر 373 ملین ڈالر رہ گیا تھا، جو ماہانہ بنیاد پر 11.8 فیصد کمی تھی۔
مالی سال 26-2025 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات سے حاصل ہونے والی مجموعی ترسیلات 4.184 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 3.475 ارب ڈالر تھا۔
مزید پڑھیں: ’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم
اس طرح اس عرصے میں بھی برآمدات میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آیا۔ دسمبر 2025 میں برآمدات 437 ملین ڈالر رہیں، جو جنوری میں 374 ملین ڈالر اور فروری میں 365 ملین ڈالر تک آگئیں۔
تاہم مارچ میں یہ دوبارہ بڑھ کر 413 ملین ڈالر ہوئیں اور اپریل میں 423 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔
مزید پڑھیں:برآمدات بڑھانے کے لیے اصلاحات تیز، وزیر اعظم کی سرمایہ کاروں کو سہولتیں دینے کی ہدایت
اگرچہ حکومت کا 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل نہ ہو سکا، تاہم آئی ٹی شعبہ مالی سال 26-2025 میں پاکستان کی بہترین کارکردگی دکھانے والی برآمدی صنعتوں میں شامل رہا۔
عالمی سطح پر سافٹ ویئر اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب، فری لانسرز کی آمدن میں اضافہ اور پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی موجودگی نے اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔














