تحفظ کے بغیر آزادی: بلوچستان میں فری لانسر خواتین صحافیوں کی جدوجہد

جمعہ 17 جولائی 2026
author image

سدرہ عارف

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بغیر کسی میڈیا کارڈ، چینل کے لوگو یا باقاعدہ ادارے کی پشت پناہی کے، صرف ایک موبائل کیمرہ اور قلم ہاتھ میں تھامے، بلوچستان کے پسماندہ علاقے پسنی کی سڑکوں پر ایک خاتون صحافی نکلتی ہے۔ یہ ہانی رمضان ہیں، جن کا سفر عام صحافیوں جیسا نہیں ہے۔ ہانی نے پسنی جیسے قدامت پسند اور دور دراز علاقے سے نکل کر انسانی حقوق، پانی کی قلت اور خواتین کے سلگتے مسائل پر آواز اٹھائی۔ شادی کور ڈیم تک ان کا 30 کلومیٹر کا تنہا اور پرخطر سفر اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لیے کسی خوف کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں۔

میدانِ عمل میں ہانی رمضان کو مقامی بااثر عناصر کی جانب سے شدید دباؤ اور زبانی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ “حساس معاملات” پر رپورٹنگ بند کریں۔ ہانی رمضان بتاتی ہیں: “جب میں نے پاک وندر کے ساحل پر بطور سٹیزن جرنلسٹ کام شروع کیا تو عوامی ردعمل سے خوفزدہ تھی، لیکن میرے کام نے مجھے پہچان اور کمیونٹی کی حمایت دلائی۔ میں نے فری لانس صحافت کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ میں ادارتی دباؤ سے آزاد رہ کر مقامی مسائل کو براہِ راست اجاگر کر سکوں۔”

تاہم، یہ آزادی اپنے ساتھ شدید خطرات بھی لاتی ہے۔ فیلڈ میں اکثر ان سے پوچھا جاتا ہے، “آپ کس ادارے سے ہیں؟” شناخت کی یہ کمی ان کے لیے خطرہ دوگنا کر دیتی ہے، کیونکہ نہ تو کوئی قانونی مدد دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی سیکیورٹی سپورٹ۔ ہانی کی والدہ کہتی ہیں: “ابتدا میں ہمیں بہت ڈر لگتا تھا کہ معاشرہ کیا کہے گا اور فیلڈ کے خطرات الگ تھے، لیکن جب ہم نے دیکھا کہ ہانی کی ویڈیوز سے ہمارے علاقے کے غریب لوگوں کے مسائل حل ہو رہے ہیں، تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو گیا اور اب ہم اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔”

ہانی رمضان نے موبائل جرنلزم (MoJo) کو اپنی طاقت بنایا۔ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ‘بیچز فار آل’ (Beaches for All) جو بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں نوجوانوں اور خواتین کو ڈیجیٹل اسکلز اور ماحولیاتی و سماجی صحافت کی تربیت فراہم کرتا ہے کے تربیتی پروگرام نے انہیں فیلڈ میں جانے کا اعتماد دیا۔ ان کی بنائی گئی کئی ویڈیوز اور رپورٹس کو بعد میں پاکستان کے مین اسٹریم ڈیجیٹل چینلز اور معروف اخبارات (جیسے ‘انڈیپنڈنٹ اردو’ اور دیگر مقامی نیٹ ورکس) نے بھی اٹھایا، جس سے پسنی اور گوادر کے پوشیدہ مسائل قومی سطح پر گونجے۔

بڑھتی ہوئی تعداد اور سیکیورٹی کا خلا

ہانی رمضان کی کہانی بلوچستان میں ابھرتی ہوئی اس نئی لہر کی عکاس ہے جس کے تحت صوبے میں فری لانسر خواتین صحافیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاؤ، سمارٹ فونز کی سستی دستیابی اور ‘بیچز فار آل’ جیسے مقامی اداروں کی ٹریننگز کی بدولت اب پسنی، گوادر اور تربت جیسے علاقوں سے بھی لڑکیاں سوشل میڈیا اور آزاد ویب سائٹس کے لیے رپورٹنگ کر رہی ہیں۔

بلوچستان کے سینئر صحافی ابرار احمد کے مطابق: “اگرچه ماضی کی نسبت اب خواتین صحافی، خاص طور پر فری لانسرز، میدان میں آ رہی ہیں، لیکن پورے صوبے میں اب بھی متحرک اور باقاعدہ کام کرنے والی فری لانسر خواتین صحافیوں کی تعداد بمشکل 7 سے 8 ہے۔ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں بھی خواتین کا میڈیا میں کام کرنا اب تک معیوب سمجھا جاتا ہے۔”

دیگر صوبوں جیسے پنجاب یا سندھ (خصوصاً لاہور اور کراچی) کے مقابلے میں بلوچستان میں خواتین صحافیوں کی یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہے۔ اس موازنہ کو اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤسز کے صوبائی بیوروز میں خواتین رپورٹرز کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ پنجاب اور سندھ میں خواتین پریس کلبز کی گورننگ باڈی کا حصہ بن رہی ہیں۔ بلوچستان کے پیچھے ہونے کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • سماجی عوامل: قدامت پسند معاشرتی ڈھانچے میں خاندان اکثر خواتین کو فیلڈ جرنلزم کی اجازت نہیں دیتا۔
  • جغرافیائی مشکلات: بلوچستان ایک وسیع اور دشوار گزار صوبہ ہے جہاں دور دراز علاقوں تک نقل و حرکت خواتین کے لیے اکیلے ممکن نہیں ہوتی۔
  • سیکیورٹی خدشات: دہشت گردی، مسلح جتھوں اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال فری لانسرز کے لیے خطرات بڑھا دیتی ہے۔

فری لانسرز کے قانونی حقوق: ماہرین کی رائے

ایسے خطرات کے ماحول میں فری لانسرز کے تحفظ کے حوالے سے جب ہم نے شعبہ صحافت کے ماہرین اور قانونی ماہرین سے بات کی، تو ایک اہم قانونی پہلو سامنے آیا۔ میڈیا قوانین کے ماہرین کے مطابق: “پاکستان کے ‘پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ’ کے تحت قانونی طور پر صحافی کی تعریف میں فری لانسرز بھی شامل ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب تک کسی کے پاس پریس کارڈ یا ادارے کا خط نہ ہو، مقامی انتظامیہ اور پولیس انہیں صحافی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے، جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔”

اسی طرح ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ فری لانسر خواتین کو حاصل آئینی حقوق اور تحفظات کے بارے میں پریس کلبز اور صحافتی تنظیموں کو خود آگے بڑھ کر شعور بیدار کرنا چاہیے تاکہ فیلڈ میں ان کی سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔

جنت حمید کی کہانی: گوادر کے ساحل سے ابھرتی آواز

ہانی رمضان کی طرح، جنت حمید کی کہانی بھی گوادر جیسے حساس اور پسماندہ علاقے میں خواتین صحافیوں کو درپیش مشکلات کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ وہ فری لانسر کے طور پر ویڈیو اسٹوریز، تصویری رپورٹس اور انٹرویوز تیار کرتی ہیں اور شہری سہولیات، خواتین کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر رپورٹنگ کرتی ہیں، لیکن ان کے لیے یہ راستہ آسان نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ نہ کوئی ادارہ سپورٹ کے لیے موجود ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر ایسا میڈیا تنظیمی ڈھانچہ جو سہارا بن سکے۔ ان کے مطابق: “کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو نہ لکھے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بنائے جا سکتے ہیں۔” وہ اس شدید دباؤ کو محسوس کرتی ہیں جو فری لانسر خواتین صحافی خاموشی سے برداشت کرتی ہیں، کیونکہ شکایت کا کوئی محفوظ اور مؤثر فورم موجود نہیں۔

جنت حمید کو اکثر سماجی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ مقامی بااثر افراد انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ کچھ موضوعات “حساس” ہیں اور ان پر بات کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ چونکہ ان کے پاس نہ میڈیا کارڈ ہوتا ہے اور نہ کسی چینل یا اخبار کا لوگو، اس لیے فیلڈ میں اکثر ان سے پوچھا جاتا ہے: “آپ کس ادارے سے ہیں؟” اور ان کی شناخت کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ان کے لیے مزید خطرناک ہو جاتی ہے کیونکہ فری لانس صحافت میں ہر قدم پر خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

شائع شدہ اسٹوریز اور عوامی ردعمل:

جنت حمید نے میڈیا میں شمولیت پاک وندر کے ساحل پر بطور سٹیزن جرنلسٹ سے کی تھی۔ انہوں نے مقامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ویڈیو اور تصویری رپورٹنگ کو اپنایا۔ ان کی رپورٹس جب مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور بلاگز پر شائع ہوئیں، تو انہیں ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف جہاں گوادر کے عوامی مسائل، خاص طور پر خواتین کی مشکلات اور شہری سہولیات کی کمی پر پہلی بار ایک مقامی خاتون کی نظر سے بحث شروع ہوئی اور عوام نے اسے سراہا، وہیں دوسری طرف بااثر حلقوں کی جانب سے ڈیجیٹل اسپیس میں ان کی نگرانی (Surveillance) بڑھا دی گئی اور ان کے کام کو روکنے کے لیے غیر مرئی خطرات پیدا کیے گئے۔ اس کے باوجود ان کے کام نے مقامی خواتین کو اپنی کہانیاں سنانے کا اعتماد دیا اور ترقیاتی منصوبوں پر عوامی بحث کو جنم دیا۔

کبریٰ جمیل: ڈیجیٹل عدم تحفظ اور ادارہ جاتی دیواریں

کبریٰ جمیل کی کہانی بلوچ خواتین صحافیوں کو درپیش ایک اور منفرد مگر نہایت سنگین چیلنج کو سامنے لاتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تحریری رپورٹس کے ذریعے بلوچ خواتین کے مسائل اجاگر کرتی ہیں اور مختلف آن لائن آؤٹ لیٹس کے لیے فری لانس کام کرتی ہیں۔ لیکن چونکہ وہ کسی ادارے سے منسلک نہیں ہیں، اس لیے ان کے پاس نہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کی تربیت ہے اور نہ ہی کسی ادارے کی تکنیکی مدد۔

کبریٰ نے میڈیا میں شمولیت کا آغاز مقامی سطح پر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے کیا۔ ابتدا میں وہ صرف سوشل میڈیا پر چھوٹے ویڈیوز اور تحریری پوسٹس کرتی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی رپورٹس کو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے جگہ دینا شروع کی۔ اس طرح وہ فری لانس صحافت کی طرف آئیں۔ ان کے مطابق: “ہمیں اکثر آن لائن ہراسانی کا سامنا رہتا ہے، کبھی اکاؤنٹس کی نگرانی ہوتی ہے اور کبھی ڈیٹا لیک ہونے کا خوف۔ لیکن چونکہ ہم کسی ادارے سے وابستہ نہیں ہیں، اس لیے نہ تربیت ہے اور نہ ہی کوئی مددگار نظام۔”

فری لانس خواتین صحافیوں کے لیے سب سے بڑا خلا یہ ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کی تربیت عموماً صرف بڑے میڈیا اداروں کے مستقل ملازمین تک محدود رہتی ہے۔ کبریٰ جمیل بتاتی ہیں کہ کئی بار انہیں آن لائن دھمکی آمیز پیغامات ملے، لیکن چونکہ وہ کسی ادارے کے ساتھ براہِ راست منسلک نہیں تھیں، اس لیے نہ شکایت درج کر سکیں اور نہ ہی کسی محفوظ فورم تک پہنچ سکیں۔

ریاستی اداروں اور سیکیورٹی کا تجربہ:

جب کبریٰ جمیل سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ان دھمکیوں کے خلاف کسی سرکاری یا ریاستی ادارے (مثلاً ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ) سے رجوع کیا؟ تو ان کا کہنا تھا: “فری لانسرز کے لیے سرکاری اداروں تک پہنچنا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ جب آپ کے پاس کسی بڑے میڈیا ہاؤس کی پشت پناہی نہ ہو، تو سرکاری ادارے آپ کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ الٹا وہاں جانے سے آپ کی شناخت عیاں ہونے اور مزید خطرات بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسی لیے ہم خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔” جب وہ ان آن لائن پلیٹ فارمز کو رپورٹ کرتی ہیں جن کے لیے وہ کام کرتی ہیں، تو اکثر جواب یہی ملتا ہے کہ “ہم صرف مواد شائع کرتے ہیں، سیکیورٹی یا قانونی مدد فراہم کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔” اس صورتحال نے انہیں اور ان جیسی دیگر خواتین کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں: محافظ یا رکاوٹ؟

پاکستان میں فری لانس اور ڈیجیٹل صحافیوں کے لیے کچھ ایسوسی ایشنز موجود ہیں، جیسے DigiMAP اور پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA)، مگر پریس کلب اور یونینز اب تک فری لانس صحافیوں کو باقاعدہ ممبرشپ دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ خواتین فری لانس صحافیوں کے لیے یہ خلا مزید خطرناک ہے کیونکہ انہیں نہ ادارہ جاتی تحفظ ملتا ہے اور نہ تربیت یا انشورنس۔

موجودہ ایسوسی ایشنز اور ان کی پالیسیز:

  • DigiMAP (Digital Media Alliance of Pakistan): 2020 میں قائم ہوئی، 50 سے زائد ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹس کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا مقصد آزاد ڈیجیٹل میڈیا کو یکجا کرنا، تربیت دینا اور پالیسی ایڈووکیسی کرنا ہے۔ خواتین صحافیوں کے لیے شمولیت ممکن ہے، مگر یہ ادارہ زیادہ تر پلیٹ فارمز کو ممبر بناتا ہے، انفرادی فری لانس صحافیوں کو نہیں۔
  • PFJA (پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن): 1979 میں قائم ہوئی، آزاد صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ تاریخی طور پر سنسرشپ کے خلاف جدوجہد کی اور صوبائی نمائندگان کے حقوق کا چارٹر بنایا۔ یہاں خواتین فری لانس صحافیوں کو شامل کرنے کی روایت موجود ہے، مگر عملی سطح پر سہولیات اب بھی محدود ہیں۔
  • PAFLA (پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن): صحافیوں کو فری لانسنگ اسکلز سکھانے کے لیے پریس کلبز کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہے۔ کراچی پریس کلب میں ورکشاپس منعقد کی گئیں تاکہ صحافی عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں کام کر سکیں۔

پریس کلب اور یونینز کے عہدیداروں کا موقف:

جب اس تفریق کے حوالے سے پریس کلب کے عہدیداروں اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے نمائندوں سے بات کی گئی، تو ان کا مؤقف تھا کہ پریس کلبز کے آئین کے مطابق ممبرشپ کے لیے کسی معتبر اور رجسٹرڈ ادارے سے باقاعدہ وابستگی (جیسے تنخواہ کی سلپ یا تقرر نامہ) لازمی شرط ہے۔ ان کا کہنا ہے: “اگر ہم فری لانسرز کے لیے دروازے کھول دیں تو صحافت کے نام پر غیر پیشہ ور افراد کا سیلاب آ جائے گا، جس سے صحافت کا معیار متاثر ہوگا۔ تاہم، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان کی فری لانس خواتین صحافیوں کے لیے حالات مختلف ہیں اور ان کے لیے پالیسی میں نرمی ہونی چاہیے۔”

اگرچہ حالیہ قانون سازی (Protection of Journalists Act) میں صحافیوں کے تحفظ کو وسعت دی گئی ہے، مگر فری لانس خواتین صحافیوں کو عملی طور پر اس کے ثمرات نہیں مل سکے۔

مستقبل کے امکانات اور نتیجہ

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق: “مستقبل میں فری لانس صحافیوں کو بھی سرکاری سطح پر مواقع فراہم کیے جائیں گے، مگر فی الحال ان کے تحفظ یا کارڈز کے لیے کوئی مخصوص پروگرام ترتیب نہیں دیا گیا۔” دوسری جانب، بلوچستان اسمبلی کی سابق اسپیکر راحیلہ درانی کا کہنا ہے کہ خواتین صحافیوں کے لیے کام ہو رہا ہے مگر اس کی رفتار تیز ہونی چاہیے تاکہ وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

فری لانس خواتین صحافی بلوچستان اور دیگر پسماندہ علاقوں میں معاشرے کی حساس ترین اور سب سے مظلوم آوازیں ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے روایتی پریس کلبز اور حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی ہوں گی۔ ایک ایسا علیحدہ سیفٹی سسٹم ناگزیر ہے جس میں ڈیجیٹل سیکیورٹی ٹریننگ، ریاستی قانونی معاونت، مفت انشورنس پالیسیز اور علاقائی سپورٹ نیٹ ورکس شامل ہوں۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے، تو وہ کہانیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گی جو اب تک معاشرتی بے حسی کے پردے چاک کر رہی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر

3 بڑے امریکی ٹی وی چینلز نے ٹرمپ کا خطاب براہِ راست نشر کرنے سے انکار کر دیا

بنوں میں کامیاب آپریشن، صدر زرداری کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

آئی ٹی شعبہ پھر سبقت لے گیا، برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون