وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیر صدارت علما و مشائخ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، سماجی استحکام اور قومی سلامتی کے لیے ریاست کے مثبت اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں، علما و مشائخ کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت پر اعتماد کا اظہار
اجلاس کے شرکا نے افواج پاکستان اور شہدا کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’معرکۂ حق‘ کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر عزت و وقار حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا جبکہ بھارت کا منفی پروپیگنڈا ناکام ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان وطن کے دفاع کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں اور آج علما کرام انہی قربانیوں کے اعتراف کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے علماء ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں۔
اجلاس میں علما و مشائخ نے حکومت کے مثبت اقدامات میں ہر ممکن تعاون جاری رکھنے، آئین کی بالادستی اور ریاستی اداروں کے استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے امن، استحکام اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے افواج پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ علما و مشائخ دہشتگردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف حکومت، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: ملکی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سازشوں کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائےگا، علما و مشائخ کونسل
اعلامیے کے مطابق پاکستان میں امن و استحکام کے لیے شہدا اور غازیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم ان کی مقروض ہے۔
اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلام امن، اعتدال، رواداری اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے، جبکہ دہشتگردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور تشدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست، معاشرے اور عوام کے امن کو نقصان پہنچانے والے ہر عمل کی مذمت جاری رکھی جائے گی۔
علما و مشائخ نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء سے اپیل کی کہ وہ قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور خطبات، دروس اور دینی اجتماعات کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں۔
اجلاس کے اعلامیے میں نوجوان نسل کو شدت پسندانہ نظریات، نفرت انگیز مواد اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ علمی، دینی اور سماجی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں ڈاکٹر سجاد قمر، قاری محبوب الرحمٰن، مولانا ذوالفقار، مولانا عبدالقادر سکندری، مولانا ایوب انصاری، مولانا اقبال عباسی، مولانا ڈاکٹر منیر احمد، مولانا ڈاکٹر محمد سلیم سعیدی، مولانا سید جہانگیر شاہ سعیدی، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان، مولانا ابو بکر صدیق، مولانا ڈاکٹر حفیظ الرحمان، علامہ سجاد نقوی، علامہ اختر عباس، مولانا وقاص مجید، مولانا مجیب الرحمان، مولانا انیس الرحمان، قاری محمد صدیق اور مولانا حسن فاروق نے شرکت کی جبکہ قائم مقام سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر مرزا علی محسود، ڈائریکٹر مصباح الرحمٰن، ڈپٹی ڈائریکٹر قرآن ڈاکٹر شاہد الرحمٰن، محمد خلیق، ڈاکٹر محبوب عثمان اور دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔
مزید پڑھیں: قومی علما و مشائخ کانفرنس میں پاک فوج سے بھرپور اظہارِ یکجہتی، عسکری قیادت کو خراجِ تحسین
اجلاس کے اختتام پر علماء و مشائخ نے شہدا کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور وطن عزیز کو ہر قسم کے داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔














