نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے ٹیلی فون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
کویتی حدود پر حملوں پر تشویش اور ضبطِ نفس کی اپیل
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے سفارتی رابطے کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح نے اپنی سرزمین پر جاری مسلسل حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:کویت کی علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تحمل اور ضبطِ نفس کا مظاہرہ کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 received a telephone call today from the Foreign Minister of the State of Kuwait, H.E. Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah.
The two Foreign Ministers discussed the latest developments in the region.… pic.twitter.com/ZxRFsczOoQ
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 18, 2026
کویتی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ ’اسلام آباد ایم او یو‘ (یادداشتِ تفاهم) پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
بات چیت کے دوران شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے علاقائی استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور مصالحتی کردار کو خصوصی طور پر سراہا۔
پاکستان کا علاقائی خود مختاری کے احترام اور کشیدگی میں کمی پر زور
جواب میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ہر صورت کیا جانا چاہیے اور اس وقت علاقائی امن و سلامتی کا تحفظ ہی سب کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں:گوادر پورٹ پر پہلی بار تجارتی بنکرنگ سروس کا آغاز، پاکستان کی بحری تجارت میں اہم سنگِ میل
سینیٹر اسحاق ڈار نے ’اسلام آباد ایم او یو‘ کے تحت جنگ بندی کے معاہدوں پر قائم رہنے کی اہمیت پر اصرار کیا اور کہا کہ فریقین کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی کو مزید ہوا دے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے مستقبل میں بھی مشترکہ مفادات اور علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔














