500 خواتین کو کاروباری مہارتیں، ٹیبلیٹس اور بزنس ٹول کٹس فراہم، بلوچستان میں خواتین کی ترقی کا نیا باب

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے شروع کیے گئے بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 500 خواتین نے تربیت کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو سرٹیفکیٹس، ٹیبلیٹس اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ضروری بزنس ٹول کٹس بھی فراہم کی گئیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس پروگرام کو صوبے میں خواتین کی معاشی بااختیاری کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس منصوبے کو مزید اضلاع تک توسیع دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں۔

پروگرام کے تحت خواتین کو کاروباری منصوبہ بندی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال، مارکیٹنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار چلانے سے متعلق عملی تربیت دی گئی۔ یہ تربیت مرحلہ وار مختلف اضلاع میں فراہم کی جا رہی ہے تاکہ خواتین اپنے علاقوں میں کاروبار قائم کرکے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کا حقیقی طریقہ انہیں ہمدردی یا امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسی مہارتیں اور وسائل دینا ہے جن کی مدد سے وہ خود اپنے کاروبار چلا سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بنیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ایک مرحلے تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خواتین کی معاشی ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔

اسی سلسلے کی ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر گوادر میں خواتین کے لیے خصوصی مارکیٹ بھی قائم کی گئی ہے، جہاں 14 دکانیں مقامی خواتین کو کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تعمیر کی گئی ہیں۔

خواتین کے کاروباری منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ اینڈومنٹ فنڈ کے حجم میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت فنڈ کو 50 لاکھ روپے تک بڑھایا گیا ہے تاکہ خواتین اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے سکیں۔

مزید برآں، بلوچستان میں خواتین کاروباری افراد کے لیے پہلا مصنوعی ذہانت (AI) لیب بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں انہیں جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

حکومتی حلقوں کے مطابق بلوچستان میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے جاری یہ اقدامات اس تصور کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبے میں ترقی اور خودانحصاری کے عملی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اکثر بلوچستان کی مثبت معاشی اور سماجی پیش رفت کو وہ توجہ نہیں ملتی جو دیگر موضوعات کو حاصل ہوتی ہے۔

اس تناظر میں حکام کا مؤقف ہے کہ صوبے کی اصل کہانی ان خواتین کی کامیابیوں میں نظر آتی ہے جو تربیت حاصل کرکے اپنے کاروبار شروع کرنے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp