پاکستانی اداکارہ حنا دلپذیر نے کہا ہے کہ اکیلی ماں اور طلاق یافتہ ہونا ان کی زندگی کے سفر کا ایک حصہ تھا، ہر انسان کے لیے زندگی کا راستہ مختلف ہوتا ہے۔
’بلبلے‘ کی اداکارہ نے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی کے مشکل مراحل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی 24 سال کی عمر میں طلاق ہوگئی تھی اور وہ اس وقت بالکل اکیلی تھیں، لیکن انہوں نے اسے زندگی کا اختتام نہیں سمجھا۔
یہ بھی پڑھیں: فنکاروں سے ناروا سلوک، حنا دلپذیر کیا کہتی ہیں؟
حنا دلپذیر نے کہا کہ انسان کی زندگی اللہ کی طرف سے طے کی جاتی ہے اور ہر شخص کو اپنی زندگی میں مختلف آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنے حالات کے ساتھ صلح کرنی چاہیے اور دوسروں کے لیے اچھا سوچنا چاہیے، کیونکہ دوسروں کے لیے دعا کرنا انسان کو اندرونی سکون اور برکت دیتا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر شخص زندگی ایک ہی انداز میں گزارے۔ اگر کسی کا خاندان بچوں کی خاطر ساتھ رہتا ہے اور اسے اچھا شریکِ حیات ملتا ہے تو یہ اللہ کی نعمت ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے اس کے لیے کچھ اور بہتر رکھا ہے۔
حنا دلپذیر نے کہا کہ رشتے کا ختم ہونا ہمیشہ کسی ایک شخص کی غلطی نہیں ہوتا، بعض اوقات دو لوگ ایک دوسرے کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق انسان کو بہتر فیصلے کرکے پرسکون زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی دوسرے شخص کی خاطر اپنی زندگی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: مومو‘ کے کردار کو کسی دوسری جگہ پرفارم نہ کرنے کی پابند ہوں، حنا دلپزیر کا انکشاف
انہوں نے اپنی مضبوطی کا کریڈٹ اپنے والدین کو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین نے انہیں ایمان اور زندگی میں کامیابی کے اصول سکھائے، جنہوں نے مشکل وقت میں ان کی مدد کی۔
اداکارہ نے خود سے محبت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو خود پر ترس نہیں کھانا چاہیے، بلکہ مشکلات کا سامنا وقار کے ساتھ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر انسان خود کو سنبھال لے تو بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
بچوں کی تربیت کے حوالے سے حنا دلپذیر نے کہا کہ بچے دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو زندگی کے اہم اصول سکھائیں، کیونکہ اچھی تربیت ان کی شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اپنی مشکلات سے نمٹنے کے طریقے کے بارے میں اداکارہ نے کہا کہ مزاح ان کے لیے ایک اہم سہارا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی ذات پر بھی ہنس لیتی ہیں اور مشکل حالات میں ہنسی نے انہیں بہتر محسوس کرنے میں مدد دی۔
یہ بھی پڑھیں: ’میری امی کو لازوال عشق پسند آیا، میرے لیے یہی اہم ہے‘، پابندی کے مطالبے پر عائشہ عمر کا ردعمل
حنا دلپذیر نے ریڈیو سے اداکاری تک کے سفر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تھیٹر اور ریڈیو دونوں سے محبت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کی پرورش دبئی میں ہوئی، لیکن پاکستانی ٹیلی وژن سے انہیں ہمیشہ خاص لگاؤ رہا۔
انہوں نے کہا کہ اداکاری ان کی زندگی میں ایک موقع کے طور پر آئی جسے انہوں نے خوشی سے قبول کیا اور اپنی پوری محنت دی۔
حنا دلپذیر اس وقت مزاحیہ پروگرام ’مِٹھو اور آپا‘ میں صبا حمید اور منال خان کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ وہ ڈرامہ ’بلبلے‘ میں مومو کے کردار اور ’قدوسی صاحب کی بیوہ‘ میں 40 سے زائد مختلف کردار ادا کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔














