سپریم کورٹ نے ایمان مزاری کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال ہو تو فریقین جلد سماعت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہی کیس 24 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔
مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی
ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ سے ہی انصاف ملتا ہے اور گزشتہ سماعت پراسیکیوشن کی وجہ سے ملتوی ہوئی تھی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے قابلِ سماعت ہونے کے قانونی نکتے پر دلائل سن لیے جائیں یا کیس 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں بیٹھ کر ہائیکورٹ کی کارروائی کو ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی مقدمے کو اس انداز میں ملتوی کرنا ہائیکورٹ کی کارروائی پر نگرانی کے مترادف ہوگا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کی کارروائی سپریم کورٹ کی نگرانی میں چلے، جس پر وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پھر ہائیکورٹ میں ہی کیس چلنے دیا جائے۔
مزید پڑھیں: راجا ناصر عباس کی ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سوالات اٹھنے لگے
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہو تو فریقین جلد سماعت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔













