سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے پاکستان میں بیوروچیف عبدالرحمان حیات نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے تو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی تعاون اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، تاہم دونوں ممالک کی قیادت دانشمندانہ انداز میں تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
وی نیوز کے خصوصی پروگرام ’صحافت اور سیاست‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، تاہم حالیہ پیشرفت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات
انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ طویل عرصے سے تنازعات کا شکار رہا ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں حالات بہتری کی جانب جا رہے تھے۔
ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی پیشرفت ایران کے لیے ایک تاریخی موقع تھی، جس سے فائدہ اٹھا کر خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا تھا۔
’پاکستان کی ثالثی سے امن کی امید پیدا ہوئی تھی‘
عبدالرحمان حیات نے کہاکہ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کے لیے قابل قدر کوششیں کیں، تاہم بعد ازاں دوبارہ فوجی کارروائیوں اور ایران کی جانب سے بعض اقدامات کے باعث صورتحال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اب بھی امن کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو بھی ایسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا احترام کرتا ہے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہے۔
’کشیدگی کا خمیازہ پورا خطہ بھگت رہا ہے‘
انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ عالمی توانائی کا اہم مرکز ہے، اس لیے خطے میں کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نہ مکمل امن ہے اور نہ ہی کھلی جنگ، لیکن اس غیر یقینی کیفیت سے پورا خطہ متاثر ہورہا ہے، خصوصاً ایسے ممالک جن کی معیشت توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔
’ایران کو اسلام آباد مفاہمتی عمل سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا‘
عبدالرحمان حیات نے کہاکہ اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی نکات میں زیادہ تر شقیں ایران کے مفاد میں تھیں اور ایران کو چاہیے تھا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے عوام کے لیے معاشی ترقی اور عالمی روابط کی نئی راہیں کھولتا۔
انہوں نے کہاکہ ان کے خیال میں ایران اور خطے کے بعض دیگر عناصر میں ایسے حلقے موجود ہیں جو امن کے بجائے کشیدگی کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا۔
’آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پر تشویش‘
انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے اہم راستے ہیں، اور ان علاقوں میں کشیدگی سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔
ان کے مطابق حوثی باغی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں اور ان کی کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ بعض قوتیں خطے میں استحکام نہیں چاہتیں۔
’سعودی عرب اپنی بحری سپلائی کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے‘
عبدالرحمان حیات نے کہاکہ سعودی عرب اپنی بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ حوثی گروہ وقفے وقفے سے کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم وہ سعودی عرب کی بحری سپلائی کو مستقل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے اپنی دفاعی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے قائم مشترکہ اتحاد بھی امن و استحکام کے لیے کام کررہا ہے۔
’پاکستان اور سعودی عرب ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں‘
ایک سوال کے جواب میں عبدالرحمان حیات نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے آئے ہیں۔
’جنگ کا اختتام بالآخر مذاکرات پر ہی ہوتا ہے‘
انہوں نے کہاکہ دنیا کی ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہوتا ہے اور موجودہ بحران کا حل بھی فوجی کارروائی نہیں بلکہ بات چیت میں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایران نے بھی حالیہ دنوں پاکستان سے دوبارہ سفارتی کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔
’پاکستان اور سعودی عرب کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے‘
عبدالرحمان حیات نے کہاکہ دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سعودی وژن 2030 کے تحت پاکستان میں زراعت، توانائی، فوڈ سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے متعدد منصوبے زیر غور ہیں اور رواں سال کے اختتام تک دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے اقتصادی معاہدے کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ بعض سعودی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم سرمایہ کاری کے تحفظ اور بعض پرانے قوانین میں اصلاحات سے مزید پیشرفت ممکن ہوگی۔
’پاکستانی اور سعودی عوام کے تعلقات مثالی ہیں‘
عبدالرحمان حیات نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام مذہبی، ثقافتی اور سماجی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔
مزید پڑھیں: کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان سعودی عرب اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کاخیر مقدم
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔











