ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرۂ احمر میں کمرشل جہاز رانی کو لاحق خطرات کی شدید مذمت کرتا ہے اور سعودی عرب کی علاقائی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا، جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب کی سلامتی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، حوثی ملیشیا کی دھمکیاں ناقابل قبول قرار
انہوں نے کہا کہ 18 جولائی کو علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطہ ہوا، جبکہ گزشتہ روز منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ترجمان کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر خلیل الرحمان سے بھی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور زیر غور آئے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچیں گے، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ان کی کرغزستان کے صدر اور مختلف رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب اور بحری مفادات کے خلاف کارروائی قابل قبول نہیں، پاکستان نے حوثیوں کو واضح پیغام دیدیا
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے 34ویں اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ پاکستان 2004 سے آسیان ریجنل فورم کا رکن ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا، جو گزشتہ 20 برس کے دوران کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا۔ اس دوران انہوں نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔













