پاکستان نے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بحری آمدورفت کی آزادی، بین الاقوامی بحری نظام اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان علما کونسل کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت
’سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور بحیرہ احمر میں کمرشل شپنگ کو دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔‘
پاکستان نے خاص طور پر ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
#Pakistan has unequivocally condemned the continued threats issued by the #HouthisMilitia against the Kingdom of #SaudiArabia and commercial shipping in the #RedSea@ForeignOfficePk @TahirAndrabi #RadioPakistan #News https://t.co/PpbH99Bmwy pic.twitter.com/MpOyCOOueX
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 22, 2026
بیان کے مطابق پاکستان واضح کرتا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اسے اپنے دفاع کے حق کے تحت اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے قانونی استعمال سمیت تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا امن معاہدہ یمن میں بھی امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے، پاکستان
دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حامی رہے گا، جبکہ تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور عالمی بحری تجارت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔














