گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر ’ہوادان‘ بنانے کا خیال ہزاروں سال پرانا ہے۔ یہ چین میں تنگ خاندان اور بدھ مت کی خانقاہوں کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی قدیم تعمیرات میں بھی نظر آتا ہے۔
پرانے گھروں کی چھتوں سے ذرا نیچے، دیواروں میں روشن دان لازمی بنائے جاتے تھے، مگر ان کے ساتھ چھت میں ہوادان بنوانا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا تاکہ گھروں میں روشنی کے ساتھ ہوا بھی آ سکے۔ ان کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا تھا کہ گرم ہوا باہر نکل جائے اور ٹھنڈی ہوا اندر برقرار رہے۔
سندھ کے گرم دیہات میں گھروں کی چھت پر بنے ہوادانوں کے سامنے پانی سے بھرے مٹکے اور گھڑے رکھے جاتے تھے۔ مٹی کے ان ٹھنڈے برتنوں میں رکھے پانی کے باعث، ہوا ٹھنڈی ہو کر ہوادان کے ذریعے اندر جاتی تھی اور گھر کے کمروں کو مفت میں ’ایئر کنڈیشنڈ‘ کر دینے کا باعث بنتی تھی۔

ہوادان کو سندھی میں ’منگھ‘ کہا جاتا ہے۔ معروف گلوکارہ اور ادیبہ زرینہ بلوچ (مشہور سیاست دان، دانشور، نقاد اور لکھاری رسول بخش پلیجو کی اہلیہ) کے ایک افسانے ’جیجی‘ میں منگھ کا ایک منفرد استعمال بھی بتایا گیا ہے۔
اس افسانے سے پتا چلتا ہے کہ سندھ میں ہوادان صرف باہر کی ہوا کو گھر کے اندر لانے کا کام نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کے ذریعے 2 پڑوسنیں آپس میں بات چیت بھی کرتی تھیں اور ایک گھر میں پکی ہوئی سبزی، سالن یا دیگر اشیا ہوادان کے ذریعے ایک دوسرے کو بھجوائی جاتی تھیں۔
ہوادانوں کا شہر، حیدرآباد
حیدرآباد صدیوں پرانا شہر ہے۔ اس کی ہوائیں اور شامیں آج بھی مشہور ہیں۔ اس شہر کی پرانی عمارتوں اور گھروں میں مٹی، چونے اور لکڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گھروں کی دیواریں موٹی اور چھتیں بہت اونچی ہوا کرتی تھیں۔
ہر گھر کی چھت پر ایک ہوادان ضرور ہوتا تھا، جس سے وہ گھر ہوادار رہتا۔ بناوٹ کے لحاظ سے عام یا سادہ ہوادان، چھوٹی چھوٹی 2 دیواروں اور ان پر ایک ترچھے سائبان پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ سائبان سامنے سے کھلا ہوتا تھا تاکہ ہوا آئے اور اس کی دیواروں سے ٹکرا کر، چھت میں بنے روزن سے نیچے چلی جائے۔
گرمی کے دنوں میں ہوادانوں سے آنے والی ہوا گھر کو ٹھنڈا رکھتی تھی۔ حیدرآباد میں یہ ’منگھ ٹیکنالوجی‘ 5 صدیاں پرانی تھی۔ جب اس خطے میں برطانوی راج قائم ہوا، تو انگریزوں نے 1920ء میں حیدرآباد میں پہلا پاور اسٹیشن بنایا۔
پاور اسٹیشن بننے سے شہر کے امرا نے بجلی کے کنکشن لے کر پنکھے خریدنا شروع کر دیے۔ اس سے ان کے بڑے بڑے گھروں اور حویلیوں کی چھتوں پر بنے ہوئے منگھ (ہوادان) ایک طرح سے بیکار ہو گئے۔
مشہور ماہرِ تعمیرات برنارڈ روڈوفسکی نے 1964ء میں اپنے ایک تحقیقی مقالے عنوان ‘Architecture Without Architects’ میں سندھ کے منگھ یا ہوادانوں کو ’سندھ کے ماحول دوست ایئر کنڈیشنرز‘ کا نام دیا تھا۔
ماہرِ تعمیرات عارف حسن لکھتے ہیں کہ حیدرآباد شہر کے علاوہ سندھ کے ساحلی شہروں اور قصبوں ٹھٹہ، بدین، سجاول، گُجو، جاتی، میرپور بٹھورو، گھارو، گاڑھو اور وسطی سندھ کے علاقوں کوٹڑی، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، ہالا اور دیگر شہروں و گوٹھوں میں بھی ہوادان عام تھے۔
سینیئر سندھی لکھاری ڈاکٹر قاضی خادم بتاتے ہیں کہ ’حیدرآباد میں گھر کے ہر کمرے کی چھت پر الگ الگ منگھ (ہوادان) بنائے جاتے تھے۔ کسی کسی گھر میں دو کمروں کی چھتوں کے درمیان ایک ہی ہوادان بنایا جاتا تھا جو دونوں جانب یکساں ہوا پھینکتا تھا۔
ان ہوادانوں کو کھولنے یا بند رکھنے کے لیے ’دروازے‘ بھی لگے ہوتے تھے، جنھیں کمرے میں بیٹھے بیٹھے ایک رسی سے کھولا یا بند کیا جا سکتا تھا۔
موسم کے لحاظ سے ہوادان کھلا رکھنے یا بند کرنے کے اوقات الگ ہوا کرتے تھے۔ سندھ میں سمندر کے باعث ہوائیں جنوب سے شمال کی جانب چلتی ہیں۔ یہ ہوائیں عموماً شام کو مغرب کے بعد چلنا شروع ہوتی ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہوادانوں کو کھولنے کا وقت شام سے لے کر صبح کے 10 یا 11 بجے تک رہتا تھا۔
سردیوں میں یہ منگھ صبح گیارہ بارہ بجے کھولے جاتے اور دوپہر کے بعد بند کر دیے جاتے تھے، تاکہ دھوپ کی گرمائش گھروں کے اندر آ سکے۔‘
ہوادان بچوں کے کام بھی آتے تھے، وہ اس طرح کہ پتنگیں ان ہوادانوں میں الجھ جاتی تھیں۔ جیسے ہی پتنگ پھنسنے کا پتا چلتا، اس گھر کے بچے اوپر پہنچ کر ہوادان سے پتنگ نکالتے اور خود اڑانے لگتے۔
یہ ہوادان جو کبھی حیدرآباد شہر کی پہچان تھے، وہ اب ایک آدھ جدید بلڈنگ پر فیشن کے طور پر بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کچھ سال پہلے ایک بڑے نجی میٹرنٹی اسپتال کی تعمیر کے دوران اس کی چھت پر علامتی طور پر ہوادان بنائے گئے، جس سے وہ عمارت بہت خوبصورت لگتی ہے۔
اس کے علاوہ حیدرآباد کی ضلعی ایڈمنسٹریشن بلڈنگ پر بھی 2 ہوادان بنائے گئے ہیں اور وہ بھی محض ’دکھاوے‘ ہی کے لیے ہیں۔
ہمارے شہروں میں درختوں کی کمی اور بجلی کی فراہمی کا جو حال ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایک بار پھر گھروں پر ہوادان تعمیر کرنے کا رواج لوٹ آئے گا۔
ہوادانوں کی اقسام
ہوادان بناوٹ کے لحاظ سے کئی قسم کے ہوتے تھے، ان میں یک رخی، دو رخی ، سہ جہتی اور ہمہ جہت شامل ہیں۔ پاکستان کے علاوہ ایران، وسط ایشیائی ممالک، خلیجِ فارس اور براعظم امریکا میں ہوادان طویل عرصے سے رائج رہے ہیں۔
یہ گزشتہ 3 ہزار سال سے ان ملکوں میں زیادہ استعمال ہوتے رہے ہیں جہاں گرمی زیادہ پڑتی ہے، مگر 20 ویں صدی کے وسط سے ان کا رواج گھٹ گیا کیونکہ دنیا بھر میں بجلی کے پنکھے اور ایئر کنڈیشنرز کا استعمال شروع ہو گیا تھا۔
موجودہ 21 ویں صدی میں جب بجلی کی کھپت بڑھنے سے اس کی فراہمی میں مسلسل تعطل آنے لگا ہے، تو ماہرینِ تعمیرات ایک بار پھر عمارتیں بناتے وقت ان میں قدرتی ہوا کی آمد و رفت کا انتظام کرنے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔
ایسا سستا انتظام بھلا ہوادان یا بادگیر کے سوا کون سا ہو سکتا ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ہوادان کی تعمیر پر جتنی لاگت آتی ہے، عمارت کو بجلی کے ذریعے ٹھنڈا رکھنے پر اس سے سو گنا زیادہ خرچہ آتا ہے۔
علاوہ ازیں، یہ اخراجات مستقل اور مسلسل بھی ہوتے ہیں، کیونکہ ایئر کنڈیشنرز، پنکھے اور ایگزاسٹ چلانے پر بجلی کا بل دینا ہوتا ہے اور ان آلات کی مرمت بھی کرانا پڑتی ہے یا کچھ ناگزیر حالات میں انھیں تبدیل کرنا لازم ٹھہرتا ہے۔ ہوادان برقی آلات کی طرح شور کی آلودگی بھی نہیں پھیلاتے اور کرنٹ تو بالکل نہیں مارتے!
پاکستان اور خطے کے چند دیگر ممالک میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہاں آئے دن بجلی کی قیمتیں بڑھا کر صارفین کو مالی جھٹکا دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک 2 منزلہ عمارتوں میں ہوادان تعمیر کرنا ہر لحاظ سے مفید ہوتا ہے۔
ہاں ان کی تعمیر میں مقامی موسم، ہوا کا رخ اور کچھ دیگر امور ضرور مدِّنظر رکھنا پڑتے ہیں، اور انھی کے حساب سے ہوادان کے رخ، ڈیزائن اور بناوٹ پر توجہ دینی ہوتی ہے۔
ہوادان اور ہوا مینار، بناوٹ، ساخت، سائز اور گنجائش کے حوالے سے ہر خطے میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ جس علاقے میں ہوا کا رخ، شدت اور دستیابی جیسی ہوتی ہے، ہوادان بھی اسی نوعیت کا بنتا ہے۔
اگر ہوا مستقل ایک ہی سمت سے چلتی ہو تو ہوادان ’یک رخی‘ ہوگا۔ جن علاقوں میں ہوا رخ بدل بدل کر چلتی ہو، وہاں عام ہوادان تعمیر کرنے کے بجائے ’ہوا مینار‘ بنائے جاتے ہیں جو کئی سمتوں سے کھلے رکھے جاتے ہیں اور اندر سے عمودی طور پر منقسم ہوتے ہیں۔ انہیں تقسیم کرنے کے لیے پتلی دیواریں بنائی جاتی ہیں۔
بڑی اراضی پر پھیلی عمارتوں کی چھتوں پر عام قسم کے چھوٹے ہوادان کے بجائے ہوائی مینار یا ’وینڈ ٹاور‘ بنائے جاتے ہیں، جن میں زیادہ ہوا کھینچنے اور اندر پھینکنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
یہ ہوا مینار کثیر المنزلہ عمارتوں میں بھی کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں، کیونکہ ہر منزل کے لیے ان میں الگ روزن رکھا جاتا ہے۔ ایران، قطر، دبئی اور دیگر عرب امارات میں ماہرینِ تعمیرات ان کا کامیاب استعمال کر رہے ہیں۔ اس انتظام سے اندر آنے والی ہوا اتنی طاقتور تو نہیں رہتی، مگر وہ عمارت میں زیادہ جگہوں تک پہنچ جاتی ہے۔
جن شہروں یا علاقوں میں گرم ہوا چلتی ہے، وہاں خاص ڈیزائن والے لمبے ہوا مینار بنتے ہیں، جن میں ہوا کو پہلے طویل اور پتلے راستوں سے گزار کر گھر کے اندر لایا جاتا ہے۔ یہ ’سفر‘ طے کرنے کے بعد ہوا کافی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔
تکونے ہوادانوں کے مقابلے میں وہ ہوادان یا ہوا مینار زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو چوکور اور زیادہ بلند ہوتے ہیں۔ ان میں عمودی مستطیلیں بنائی جاتی ہیں جن کے ذریعے ہوا تیزی سے داخل ہو کر ماحول کو فوراً ٹھنڈا کرنے کا کام کرتی ہے۔
تیز رفتار ہوا میں آلودگی ساتھ لانے کا امکان بھی کم سے کم ہوتا ہے۔ جن علاقوں میں گرد و غبار اور جراثیموں والی ہوا چلتی ہو، وہاں ہوادانوں یا ہوا میناروں میں باریک کپڑے کی جالی لگائی جاتی ہے۔ اس جالی کو وقتاً فوقتاً صاف کرنا ضروری ہوتا ہے، اور اگر ہوا کے دباؤ سے یہ پھٹ جائے تو اسے تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
ایران اور خلیجِ عرب میں بلند اور لمبے ہوادان (بادگیر) کامیاب ہیں، کیونکہ وہاں چلنے والی ہوائیں یک سمتی نہیں ہوتیں۔ اس لیے یہ چاروں سمتوں سے کھلے رکھے جاتے ہیں تاکہ ہر طرف سے ہوا ان میں آ سکے۔ ان بادگیروں کی بلندی 30 فٹ سے لے کر سینکڑوں فٹ تک ہو سکتی ہے۔
جن ملکوں میں بجلی کا بحران ہوتا ہے، وہاں شہری تعمیرات میں کئی اختراعات کی جا رہی ہیں، جیسے جگہ جگہ پتلی اور پیچ دار گلیاں، تاکہ ہوا اندر آنے کے بعد جلدی باہر نہ نکل سکے۔
گھروں اور دیگر عمارتوں کے اندر آر پار کھلے ایریاز رکھے جاتے ہیں۔ ان راہداریوں سے ہوا کا مسلسل بہاؤ عمارت کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بلڈنگز میں اوپر کی سطح پر روشن دانوں کی قطاریں بھی دی جاتی ہیں، جنہیں رات میں کھول دیا جاتا ہے تاکہ رات بھر باہر کی خنک ہوا اور ٹھنڈک اندر جمع ہوتی رہے۔ اس کے نتیجے میں دن کے وقت اندر کا موسم کم گرم رہتا ہے۔
ماحول میں ہوا موجود نہ ہو، تب بھی ہوادان مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہوا کھینچ کر اندر نہ لا سکے، تو بھی گھر کے اندرون میں حبس نہیں ہونے دیتا۔
گرم بھاپ نما تپش جو عمارت کی دیواروں اور فرش سے بھپکوں کی صورت میں نکلتی رہتی ہے، وہ ہوادان کے ذریعے فضا میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح گرم ترین موسم میں بھی سانس گھٹنے کے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔
مصر میں فرعونی دور سے بھی پہلے ہوادان استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔ مصری عربی میں اسے ’ملقف‘ کہتے ہیں۔ یہ بناوٹ کے لحاظ سے ہوا کے رخ پر 10 ڈگری کے زاویے پر کھلے ہوتے تھے۔ 20 ویں صدی کی ابتدا سے یہ متروک ہونا شروع ہو گئے، مگر اب ماہرینِ تعمیرات انہیں دوبارہ مروج کرنے کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں، کیونکہ ایئر کنڈیشنرز ملک میں پیدا ہونے والی بجلی کا 60 فیصد کھا جاتے ہیں۔
ایران کے بادگیر، بادکش، بادغان، بادہنج، شیش خان وغیرہ
ہم جنہیں ہوادان کہتے ہیں، ایران میں وہ ’بادگیر‘ کہلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی فارسی میں ان کے کئی نام ہیں، جن میں بادکش، بادغان، بادہنج اور شیش خان قابلِ ذکر ہیں۔
ایران میں یہ سائرسِ اعظم کے دور سے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس ملک میں گھروں کے اوپر خوبصورت اور منفرد بادگیر بنوانا، آج بھی ایک طرح سے اسٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے امیر ایرانی اپنے حویلی نما گھروں پر بادگیر لازماً بنواتے تھے۔
قدیم ایران میں رہائشی تعمیرات اس طرح کی جاتی تھیں کہ گرمیوں میں تیز دھوپ گھروں کے اندر کم سے کم داخل ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے کھڑکیاں نیچی اور مشرق کی سمت رکھی جاتی تھیں اور دالانوں کے ساتھ چھپر جیسے شیڈز بنائے جاتے تھے۔
بادگیر زیادہ تر ایران کے جن صوبوں میں رائج رہے ہیں، ان میں یزد، کرمان شاہ، سرجان، نین اور بم شامل ہیں… وہاں کے پرانے گھروں پر یہ اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ بادگیر ایک رخ سے لے کر آٹھ رخوں (سمتوں) والے ہوتے ہیں۔ یزد سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صحرائی شہر معبود میں ہوا چونکہ ایک ہی سمت سے چلتی ہے، اس لیے وہاں یک رخی بادگیر بنے ہوئے ہیں جنہیں ’شیش خان‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
معبود کے برعکس، دولت آباد شہر اور اس کے مضافات میں چلنے والی ہوائیں کثیر سمتی ہوتی ہیں، اس لیے وہاں جو بادگیر ہیں، وہ یک رخی کے بجائے دو رخی سے لے کر ہشت رخی تک ہیں۔
یہی حال کاشان کا ہے، وہاں کے گھروں پر بھی کثیر رخی بادگیر موجود ہیں۔ ایسا ہی ایک قدیم اور خوبصورت محل نما گھر (بوروجردی گھر) ہے، جس پر ہر سمت گولائی نما بادگیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ بادگیر اس کی تعمیر کو بہت منفرد بناتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی والے چند مشہور ہوادان
مغربی ملکوں میں اب ٹیکنالوجی کی مدد سے جدید اور ’سائنسی‘ ہوادان بنائے جا رہے ہیں۔ بجلی یا دیگر ذرائع سے کام کرنے والے ان ہوادانوں کے اندر شمسی توانائی والے پنکھے اور سینسر نصب کیے جاتے ہیں۔ ان کی مدد سے، ہوا کا رخ دیکھ کر یہ اپنی سمت بھی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
وسطی فرانس میں ایک موسیقی تھیٹر پر المونیم سے دنیا کا سب سے بڑا ہوادان تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہوا کسی بھی رخ سے چلے، وہ اس کے اندر سے ہو کر عمارت کے اندرون کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔
ایسا ہی معاملہ بارباڈوس میں اوول کرکٹ گراؤنڈ کے پویلین کا ہے، جس کے اوپر المونیم سے عظیم الجثہ ’ونڈ اسکوپ‘ تعمیر کیا گیا ہے۔ برطانوی شہر ڈارٹ فورڈ کے ’بلیو واٹر شاپنگ سینٹر‘ کی گولائی مائل چھت پر بھی بے حد منفرد اور جدید ہوادان (ہوا مینار) نصب ہیں۔
اس حوالے سے تعلیمی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیسٹر (برطانیہ) میں ڈی مونٹفورٹ یونیورسٹی کی کوئینز بلڈنگ کو ہوادار رکھنے کے لیے چھت پر ہوا مینار تعمیر کیے گئے ہیں۔
ہمارے خطے میں ایسی ایک مثال دوحہ (قطر) کی یونیورسٹی کی ہے، جس کی چھت پر ہر جانب ملقف یا جدید ہوادان تعمیر کیے گئے ہیں۔
ہوادان گزشتہ 3 ہزار سال سے ان ملکوں میں زیادہ استعمال ہوتے رہے ہیں جہاں گرمی زیادہ پڑتی ہے۔ مگر 20 ویں صدی کے وسط سے ان کا رواج گھٹ گیا تھا کیونکہ دنیا بھر میں بجلی کے پنکھے اور ایئر کنڈیشنرز کا استعمال شروع ہو گیا تھا۔
موجودہ 21 ویں صدی میں جب بجلی کی کھپت بڑھنے سے اس کی فراہمی میں مسلسل تعطل آنے لگا ہے، تو ماہرینِ تعمیرات ایک بار پھر عمارتیں بناتے وقت ان میں قدرتی ہوا کی آمد و رفت کا انتظام کرنے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












